غزہ: ہسپتال میں بجلی بند ہونے سے 48 گھنٹوں میں 24 مریضوں کی موت

آئی سی یو میں کوئی مریض زندہ نہیں رہا، اسرائیلی محاصرے کا شکار شفا ہسپتال کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں الشفا ہسپتال کے اسرائیلی محاصرے کے باعث طبی سہولیات نہ ہونے سے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تمام مریض شہید ہو گئے۔

اسرائیل نے الشفا ہسپتال کا گھیراؤ جاری رکھا ہوا ہے، سیکڑوں محصور افراد اور طبی سہولیات نہ ہونے سے مریضوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق وزارت صحت نے یہ اعلان ایسے وقت کیا جب اسرائیل نے غزہ میں ایک دن میں ایندھن کے دو ٹرکوں کے داخلے کی اجازت دینے کی امریکی درخواست پر رضا مندی ظاہر کی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج نے الشفا کا ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ تباہ کر دیا، ہسپتال میں رکھی کئی لاشیں بھی نکال دیں۔

اب الشفا ہسپتال ڈائریکٹر کے ڈائریکٹر کے مطابق الشفا ہسپتال میں کوئی آئی سی یو مریض اب زندہ نہیں رہا، الشفا میں رات گئے کم ازکم 22 فلسطینی جبکہ 3 دن میں 55 افراد انتقال کر چکے۔

اس سے قبل انتظامیہ نے کہا کہ الشفا ہسپتال میں ہر ایک منٹ میں ایک فلسطینی شہید ہو رہا ہے، نومولود اور شیرخوار بچوں سمیت بوڑھے اور ہر مریض موت کے قریب ہے اور اسرائیلی محاصرے کے باعث الشفا ہسپتال زندہ لوگوں کے لیے کھلا قبرستان بن ہو چکا ہے۔

انتظامیہ نے کہا تھا کہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے بے گناہ لوگوں اور بچوں کو مرنے کیلئے چھوڑنا جنگی جرائم سے کم نہیں، اسرائیل نے نوزائیدہ بچوں کے انکوبیٹر فراہم کر دیا مگر بجلی کےبغیر وہ تابوت سے کم نہیں۔

خیال رہے کہ الشفا ہسپتال میں 7000 افراد محصور ہیں جن میں مریض، طبی عملہ اور پناہ لینے والے فسلطینی شامل ہیں، محصور فلسطینیوں کے پاس نہ پانی ہے، نہ بجلی اور نہ ہی دیگر ضروریات زندگی میسر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں