لبنان میں اسرائیلی ڈرون کی 2006ء کے بعد پہلی بار "نبطیہ" کی گہرائیوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی افواج نے جولائی 2006ء کی جنگ کے بعد پہلی بار نبطیہ کے علاقے میں گہرائی میں بمباری کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی نے مزید کہا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے آج صبح سویرے نبطیہ میں تول ۔ کفور روڈ پر واقع ایک ایلومینیم ورکس فیکٹری پر دو میزائل داغے جس سے اس کا تمام سامان جل گیا۔

حزب اللہ نے آج پہلے اعلان کیا تھا کہ اس کے ارکان نے جنوبی لبنان میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا ہے۔

حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ جس ڈرون کو مار گرایا گیا۔ وہ ہرمیز 450 تھا اور اسے ایک "ملٹی مشن جنگی ڈرون" قرار دیا جاتا ہے۔

بیان میں اشارہ دیا گیا کہ ڈرون کا ملبہ شمالی اسرائیل میں الجلیل فنگر کے علاقے پر گرتا ہوا دیکھا گیا۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاع نے لبنان سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کو روک دیا جس نے اس سے تعلق رکھنے والے ڈرون کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر کہا کہ دفاعی نظام نے اسرائیلی علاقے میں گھسنے والے راکٹ کو ریکارڈ نہیں کیا۔

اسرائیلی توپ خانے نے راس الناقورہ اور اس کے اطراف و اکناف اور جبل البونہ کے مضافات میں بمباری کی، طیاروں نے رات کے وقت مجدل زون اور ناقورہ کے قصبوں کے مضافات میں گولہ باری کی۔ لبنانی نیوز ایجنسی کے مطابق شمع، طیر حرفا، علما الشعب، عیتا الشعب، رامیا اور دیبل کے دیہاتوں پر پرتشدد توپ خانے سے بمباری کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں