یرغمالیوں کو علاج کیلئے ہسپتالوں میں منتقل کیا تھا: حماس کا اسرائیلی الزام پر جواب

اسرائیل نے یرغمالیوں کو ہسپتالوں میں چھپائے جانے کا کہا تھا، القسام بریگیڈ کی تل ابیب پر راکٹ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تحریک حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا ہے کہ یرغمالیوں کو ہسپتالوں میں نہیں رکھا جا رہا ہے بلکہ ان میں سے کچھ کو ان کی حالت کی سنگینی کے پیش نظر علاج کے لیے نگہداشت کے مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

القسام بریگیڈز نے کہا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی فوج کے ترجمان کے ہسپتالوں میں قیدیوں کی موجودگی کے بارے میں جھوٹ کے جواب میں بتاتے ہیں کہ ہم نے ان میں سے کئی کو علاج کے لیے نگہداشت کے مراکز میں منتقل کیا ہے۔

القسام نے مزید کہا کہ ان میں سے ایک کو آئی سی یو لایا گیا اور صحت یابی کے بعد دوبارہ حراستی مقام منتقل کردیا گیا۔ حراست کے مقام کے اطراف میں مسلسل بمباری کی وجہ سے اس یرغمالی کی خوف و ہراس کی وجہ سے موت ہوگئی۔

غزہ میں اسرائیل اور مسلح فلسطینی گروپوں کے درمیان جنگ جمعہ کو 42 روز بھی جاری رہی ۔ غزہ کی پٹی کے شہریوں کے مصائب کو دور کرنے کے لیے فوری جنگ بندی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ غزہ کی 23 لاکھ آبادی بے گھر ہوگئی ہے۔

العربیہ اور الحدث چینلز کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ایک راکٹ اور اس کے ٹکڑے تل ابیب کے جنوب میں کئی علاقوں میں گرے ہیں۔ القسام بریگیڈز نے اسرائیل کی جانب سے شہریوں کے قتل عام کے جواب میں تل ابیب پر راکٹ باری کی۔ راکٹ کے حوالے سے تل ابیب میں انتباہی سائرن بجتے رہے۔

غزہ کی پٹی پر لڑائی کے 42 ویں دن بھی صہیونی فوج نے فضائی بمباری کی۔ القسام نے بھی جواب میں عسقلان اور دیگر بستیوں پر راکٹ فائر کئے۔ راکٹوں کے کھلے علاقے میں گرنے کے امکانات بتائے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ادرئی اویچائی نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز کے لڑاکا طیاروں نے غزہ کی پٹی کے اندر کئی اہداف پر بمباری کی ہے۔ اسی طرح زمینی فوجی دستوں نے تحریک اسلامی جہاد کے کمانڈر کے ٹھکانے پر کارروائی کی ہے۔ اس مقام پر سٹریٹجک جنگی ذرائع کی تیاری کی فیکٹری موجود تھی۔

دوسری جانب تحریک اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے غزہ کے مغرب میں التقدم، الصابرہ اور تل الھوا میں تین اسرائیلی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ہاگاری نے کہا کہ اسرائیلی فورسز غزہ کے ہسپتالوں کے قریب تلاشی جاری رکھے ہوئے ہیں، ان مقامات سے سرنگیں ملی ہیں اور انہیں تباہ کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

ہگاری نے مزید کہا کہ ہماری افواج نے الشفا اسپتال کے نیچے ایک سرنگ کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے اور اس سرنگ کو تلاش کرنے اور اسے تباہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہماری افواج الرنتیسی ہسپتال میں بھی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں اس ہسپتال کے قریب بھی ایک سرنگ ملی ہے۔ یہاں بہت سی سرنگیں ہیں، الرانتیسی ہسپتال کے قریب جھڑپیں جاری ہیں۔ القدس ہسپتال کے آس پاس بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 7 اکتوبر سے اب تک ہمارے 372 فوجی مارے جا چکے ہیں۔

فلسطینی ادارے نے بتایا کہ 42 دن کی جنگ میں اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1200 ہوگئی ہے۔ شہدا میں 5000 بچے اور 3300 خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل نے اب تک لگ بھگ 1270 بڑے حملے کئے ہیں۔ اس غارت گری میں 1800 بچوں سمیت 3750 فلسطینی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ان افراد کے متعلق خیال ہے کہ وہ تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے ہی دبے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں