فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ میں خلاف ورزیاں، مغرب میں اسرائیل کی ساکھ داؤ پر لگ گئی

غزہ کے ہسپتالوں پر بمباری، عام شہریوں کی جانی بچانے میں ناکامی اور جعلی پروپگنڈے کے لیےفلموں کے مناظرکے استعمال پر اسرائیل کو عالمی سطح پرسبکی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ان دنوں، ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل حماس کے خلاف اپنی جنگ کے علاوہ ایک اور جنگ لڑ رہا ہے، کیونکہ وہ دنیا کو خاص طور پر امریکا اور مغربی اتحادیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اس کے حملے "منصفانہ" اور عالمی قانون کے مطابق ہیں۔

غلطیوں نے اسرائیل کی "کریڈیبلٹی" کو مار ڈالا!

"Nbcnews" نیٹ ورک کے مطابق تل ابیب جن معلومات کا اعلان کر رہا ہے اس میں غلطیاں اس کی ساکھ کے بارے میں سوالات کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر اس کے متعدد بار غلط تفصیلات شائع کرنے کے بعد اسرائیل کو سخت طنز اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی پبلک ریلیشن مشین نے حالیہ ہفتوں میں اس بات پر زور دینے کی ضرورت سے زیادہ کوشش کررہی ہے کہ وہ غزہ پر اندھا دھند بمباری کا جواز پیش کر اور ساتھ ہی شہریوں کی اموات میں کمی کو بھی دنیا کے سامنے پیش کرے۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں اپنے فوجیوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دی، سوشل میڈیا پر پوسٹس کی مستقل تال برقرار رکھی اور اسرائیلی ارکان کنیسٹ کو ٹیلی ویژن چینلوں پر موجود رہنے کی تاکید کی۔

غزہ کے ہسپتالوں میں اسرائیلی کارروائیوں میں قانون کی پامالیاں

اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ اپنے حالیہ رابطے میں اسرائیل نے کئی بظاہر غلط معلومات نشر کیں۔ خاص طور پر "رنتیسی ہسپتال" کے بارے میں دعویٰ کیا کہ ہسپتال کے تہہ خانے میں سے ایک دیوار پر ایک "سفید کاغذ" لٹکا دیا گیا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ یہ حماس کےان جنگجوؤں کا ٹائم ٹیبل تھا جنہوں نے یرغمالیوں کو قید کررکھا تھا۔

اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پردوں کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ ہسپتال میں اسرائیلی زیر حراست افراد کے ویڈیو کلپس بنائے گئے تھے۔

تاہم اس رپورٹ پر توجہ نہیں دی گئی، بلکہ اس نے ایک وسیع ردعمل کا مطالبہ کیا جس نے شواہد پر سوالیہ نشان لگا دیا اور اسرائیلی پوزیشن کو کمزور کر دیا۔ خاص طور پر چونکہ تل ابیب ہسپتالوں میں حماس کے ہیڈ کوارٹر کے وجود کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دکھا سکا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ایک تھنک ٹینک کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ایک سینیر ایسوسی ایٹ فیلو ایچ اے ہیلیر نے کہا کہ غزہ کے الرنتیسی ہسپتال کے تہ خانے میں حماس کے نیٹ ورک کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج ہسپتال میں حماس کے کسی فوجی نیٹ ورک کا ثبوت نہیں دے سکی۔ ان پر کوئی یقین نہیں کرسکتا۔ اس وقت اسرائیلی فوج نے جھوٹا دعویٰ کرکے اپنی ساکھ کو گولی مار دی تھی۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اسے الشفاء ہسپتال میں ایک سرنگ کھولنے اور ہتھیاروں اور رائفلوں اور گولہ بارود کے دیگر ذخیرے پر مشتمل ایک گاڑی ملی ہے۔

اسرائیل نے کہا کہ اس کے فوجیوں کو ایک شہری قیدی یہودیت ویس اور ایک 19 سالہ سپاہی نوا مارسیانو کی لاشیں ملی ہیں جنہیں حماس نے 7 اکتوبر کو اغوا کیا تھا، لیکن ان کے کیس کو ثابت کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔

فلموں کے مناظر کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف

اسرائیل پر اس سے قبل بھی غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے عرب میڈیا کے ترجمان اوفیر گینڈلمین نے ’ایکس‘ ویب سائٹ پر ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے باشندوں کو میک اپ کے ذریعے اپنی چوٹیں بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم لاتعداد لوگوں نے اس کی تصحیح کی کہ فوٹیج دراصل ایک لبنانی فلم کی ہے۔حقیقت سامنے آنے کے بعد اسرائیلی حکومت نے وہ ویڈیو سوشل میڈیا سے ہٹا دی۔

اگرچہ اسرائیل جانتا ہے کہ بین الاقوامی تنقید اہم ہے،۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب وائٹ ہاؤس 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کے اسرائیل کے بیان کردہ ہدف کی حمایت کرتا ہے جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بائیڈن انتظامیہ کے حکام نے نجی طور پر ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز شہریوں کے جانوں کے تحفظ کے لیے درکار کوششیں نہیں کررہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی غزہ پر اندھا دھند بمباری میں اب تک 12,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

اسرائیل پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے15 ممالک اس ہفتے لڑائی روکنے کے لیےایک قرارداد پر ووٹ دیا۔

دوسری طرف دنیا بھر میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر جاری بربریت کے خلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کرہے ہیں۔

دنیا بھر کی سڑکیں سیکڑوں ہزاروں مظاہرین سے بھری ہوئی تھیں جو جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں اسرائیلی امور کے سینئر فیلو نمرود گورین نے کہا کہ وقت کے ساتھ یونے والی تبدیلیوں کو معمولی نہیں سمجھا جایا جانا چاہیے۔

"جنگی جرم"

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق ہسپتالوں پر حملہ کرنا عام طور پر "جنگی جرم" سمجھا جاتا ہے۔ الا یہ کہ ہسپتالوں کوئی فوجی یا مسلح گروہ کارروائیوں میں استعمال کررہے ہوں۔ پھر بھی حملے سے قبل ڈاکٹروں اور مریضوں کو خبردار کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی جانی بچا سکیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور مریضوں کو خبردار کیا ہے جو اس کے بقول حماس کے زیر استعمال ہیں لیکن بہت سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ شدید بیمار مریضوں کو لے جانے سے قاصر ہیں اور انہیں پیچھے چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔

الشفا ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ہسپتال کو حماس کے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی سختی سے تردید کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں