مسلم ریاستیں اسرائیل کے ساتھ سیاسی تعلقات منقطع کر لیں: خامنہ ای

ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تمام مسلم ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کم از کم ’’محدود مدت‘‘ کے لیے سیاسی تعلقات منقطع کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے تمام مسلم ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کم از کم ''محدود مدت‘‘ کے لیے سیاسی تعلقات منقطع کریں۔

اتوار 19 نومبر کو ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کی ایک رپورٹ میں ملک کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی طرف سے مسلم ریاستوں سے کی گئی اس اپیل کو منظر عام پر لایا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ کے تناظر میں ایرانی سپریم لیڈر اس سے قبل اسلامی ممالک سے اسرائیل پر 'اسلامی تیل اور خوراک‘ کی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کر چُکے ہیں۔

اس ضمن میں 11 نومبر کو عرب لیگ اور اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے مشترکہ سربراہی اجلاس میں ایران نے اسرائیل پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کی درخواست کی تھی تاہم اس پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ اس کے قریب ایک ہفتے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے ایک بار پھر اپنی درخواست پیش کی ہے تاہم اس بار انہوں نے مسلم دنیا سے اسرائیل کے ساتھ سیاسی تعلقات منقطع کرنے کی اپیل کی ہے چاہے وہ 'محدود وقت کے لیے ہی کیوں‘ نہ ہو۔

ایران کے سپریم لیڈر کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب عرب اور اسلامی ممالک کے وزراء غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق پیر کے روز سے شروع ہونے والے اس دورے کی پہلی منزل چین ہے۔ بحرین میں ہونے والی ایک کانفرنس کے جلو میں سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین سمیت دیگر کئی ممالک کے اس دورے کا مقصد ایک واضح پیغام پہنچانا ہے کہ جنگ بندی کا اعلان فوری طور پر کیا جائے اور امداد کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔

شہزادہ فیصل نے ایک کانفرنس کے موقع پر مزید کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک کے وزراء کا یہ دورہ ریاض منعقدہ عرب اور اسلامی سربراہی مشترکہ اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلوں پر عمل درآمد کا پہلا قدم ہو گا۔

بحرین نے سوشل میڈیا پر اپنی وزارت کی طرف سے پوسٹ کیے گئے تبصروں میں جمعے کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم X پر لکھا، ''پہلا سٹاپ چین ہو گا، پھر ہم دوسرے ممالک کے دارالحکومتوں کی طرف بڑھیں گے اور اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہو گا کہ جنگ بندی کا اعلان فوری طور سے کیا جانا چاہیے اور امدادی اشیا کے فوری طور سے غزہ میں داخلے کو ممکن بنایا جائے۔‘‘

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا، ''ہمیں اس بحران اور غزہ پر جنگ کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے۔ جتنی جلدی ہو سکے۔‘‘

اُدھر بیجنگ نے اتوار کو اعلان کیا کہ فلسطینی اتھارٹی اور چار مسلم اکثریتی ممالک کے خارجہ پالیسی کے اعلیٰ حکام پیر اور منگل کو چین کا دورہ کریں گے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک بیان میں کہا، ''اس دورے کے دوران، چین عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ وفد کے ساتھ موجودہ فلسطینی اسرائیل تنازعہ کو کم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کو فروغ دینے جیسے موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں