شام میں امریکی فوجی اڈے پرایک اور حملہ،ایک ماہ میں ہونے والے حملوں کی تعداد40 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ مسلح عراقی دھڑوں نے مشرقی شام میں دیر الزور کے دیہی علاقوں میں امریکی افواج کے اڈے کے طور پر استعمال ہونے والی ایک تنصیب پر حملہ کیا ہے۔

آبزرویٹری نے تصدیق کی کہ مسلح دھڑوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں امریکی کونیکو گیس فیلڈ بیس پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ آبزرویٹری نے مزید کہا کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز عراقی مسلح دھڑوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے شام میں امریکی التنف اڈے کو ڈرون سے نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے میں براہ راست اپنے ہدف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراقی دھڑوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ آپریشن غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف دشمن کی طرف سے کیے جانے والے جرائم کے جواب میں کیا گیا ہے۔

امریکی فورسز نے کم از کم ایک ڈرون کو السریہ کے علاقے میں مار گرایا جو التنف بیس سے تقریباً 3 کلومیٹر دور ہے۔ قابل ذکر ہے کہ التنف بیس پر نیا حملہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اپنی نوعیت کا ساتواں حملہ ہے۔

عراق اور شام میں مسلح دھڑے غزہ کے خلاف انتقامی مہم کے ایک حصے کے طور پر شام کی سرزمین کے اندر بین الاقوامی اتحاد کے اڈوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

19 اکتوبر سے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے "بین الاقوامی اتحاد" کے اڈوں پر 40 حملے رپورٹ کیے ہیں۔ التنف بیس پرسات حملے کیے گئے، العمر آئل فیلڈ بیس پر 9، کونیکو گیس فیلڈ بیس پر 7، الملکیہ شہر کے دیہی علاقوں میں روباربا میں امریکی اڈے پرایک حملہ ، خراب الجیر بریلان اڈے پر 7، الشدادی اڈے پر 6،اور تل بیدر اڈے پر 2 اور قسرک بیس پر 1 حملہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں