’گونگی‘سعودی لڑکی جس کی انسان دوستی سے بیمار اور بے گھر نوجوان کو نئی زندگی ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے سوشل میڈیا پر ایک باہمت اور انسان دوست لڑکی 29 سالہ ’رسیس الحکیر‘ کا خوب چرچا ہو رہا ہے اور ہر طرف سے اس کے لیے تحسین کے پیغامات آ رہے ہیں۔

’رسیس الحکیر‘ نے دراصل ایک ایسے نوجوان کی مدد کرکے اسے ایک نئی زندگی دی جو کئی جسمانی عارضوں اور معاشی اور سماجی مشکلات سے دوچار تھا۔اس کے پاس اپنا گھر اور ٹھکانہ تک نہیں تھا جب کہ بیماریوں اور موٹاپے کی وجہ سے اس کی زندگی تکلیف دہ ہوچکی تھی۔

رسیس نے نوجوان طارق العمیری کے حالات کے مطابق اسے پیشہ ورانہ ملازمت فراہم کرنے میں اس کی مدد کی۔

العمیری نامی نوجوان کی انسانیت سوز حالت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس وائرل ہوئی۔ وہ بیماریوں اور زندگی کی تکالیف، گھر نہ ہونے اور کئی دوسری مشکلات سے دوچار تھا۔

"رسیس" نےالعمیری کے اضافی وزن کے نتیجے میں گیسٹرک آستین کی سرجری مکمل کرنے سے پہلے یا بعد میں اس کے نفسیاتی علاج پر زور دیا۔

رسیس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ میں نے ایک گھر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طارق العمیری کی تکالیف کو ختم کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ وہ موٹاپے کا شکار تھا اور اس کے علاج میں اس کی مدد کی۔ اسے گھر دیا۔اب طارق ہمارا حصہ ہے اور ہم اس کا حصہ ہیں۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ میں نے لوگوں کے باہمی میل جول کو موثر انداز میں دیکھا۔ یہ بہت وسیع اور تیز تھا۔ یہ سچ ہے کہ مجھے اس کی توقع نہیں تھی، لیکن مجھے اس سے کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ سعودی عوام عظیم ہیں اور ان کے لیے کوئی بھی چیز مشکل نہیں خاص طور پر ایک ایسے معاملے میں جس سے ہم بطورقوم متحد ہوجاتے ہیں۔

رسیس الحکیر کون ہیں؟

جدہ گورنری سے تعلق رکھنے والی ایک 29 سالہ سعودی لڑکی رسیس نے اپنے اس عظیم انسانی ہمدردی کے جذبے اور مشن کے بارے میں کہا کہ ’میں اپنے اندر کے عظیم احساس کو بیان نہیں کر سکتی جسے صرف لفظ "الحمد للہ" سے بیان کیا جا سکتا ہے‘۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیمار نوجوان کے حوالے سے لوگوں کا آپس میں میل جول بہت وسیع اور تیز تھا۔ یہ سچ ہے کہ مجھے اس کی توقع نہیں تھی، لیکن مجھے اس سے کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ سعودی عوام عظیم قوم ہیں اور ان کے لیے کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں