فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی بمباری غزہ میں 3 صحافی جاں بحق ۔ اب تک 48 صحافی جان بحق ۔ 'سی پی جے' رپورٹ

سب سے زیادہ صحافی غزہ میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں ایک صحافتی ادارے کا سربراہ اور دو دوسرے صحافی اسرائیلی بمباری کے نتیجے ہیں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ صحافیوں کی ہلاکتوں کے واقعہ اتوار کی شام کی گئی اسرائیلی بمباری سے ہوئیں۔ 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ' کے مطابق ہلاکتیں 48 سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

اتوار کی شام ہلاک کیے گئے صحافیوں کی ان کے اہل خانہ نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ نیو یارک میں قائم ایک ادارے ' کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس 'نے کہا ہے کہ اس علاقے میں سات اکتوبر سے اب تک 48 سے زائد میڈیا کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ صرف غزہ میں اب تک غزہ میں درجنوں صحافیوں کو بھی اسرائیل بمباری سے ہلاک کرچکا ہے۔

'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کی مرتب کردہ فہرست میں غزہ اور غزہ کے علاوہ دیگر جگہوں پر ہلاک ہونے والے میڈیا ورکرز کو دکھایا گیا ہے۔ اس فہرست میں چار اسرائیلی صحافی اور ایک لبنانی بھی شامل کیا گیا جن کی ہلاکت ہوئی ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیٹی کے مطابق ' صحافی پورے خطے میں جاری جنگ کی کوریج کے دوران عظیم قربانی دے رہے ہیں۔ غزہ کے رہنے والے صحافی بطور خاص اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

' سی پی جے ' کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے کورآر ڈینیٹر شریف منصور نے غزہ اور خطے کے صحافیوں کے لیے یہ خراج تحسین اپنی ایک ای میل میں پیش کیا ہے۔

اتوار کے روز صحافی اور 'بورڈ آف پریس ہاؤس فلسطین ' کے سربراہ بلال جداللہ جاں بحق ہوئے جب کہ ان کے فارماسسٹ بہنوئی، بہن اور دوسرے رشتہ دار اسی بمباری کے دوران زخمی ہو گئے۔ اتوار کی صبح جداللہ نے اپنی بہن کو بتایا تھا کہ وہ غزہ شہر سے جنوبی غزہ کی طرف آرہا ہے۔

بعد ازاں اسے زیتون کے علاقے میں اسرائیلی ٹینک کے گولے سے ہلاک کر دیا گیا۔ واضح رہے اس سے پہلے بھی کئی واقعات میں اسرائیلی ٹینکوں نے صحافیوں کو سیدھا نشانہ لے کر ہلاک کیا ہے۔

بلال جد اللہ کے کئی دوسرے رشتہ دار بھی غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے وابستہ رہے ہیں۔ اب تک بلل اور اس کے چار رشتہ دار صحافی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اس کی ہلاکت کے واقعے سے ایک روز قبل ہفتے کے دن دو صحافی بھی اسی طرح بمباری میں ہلاک ہوئے۔ یہ ہلاکتیں 'بریج پناہ گزین کیمپ 'واقع وسطی غزہ پر بمباری کے دوران ہوئیں۔

تاہم اسرائیلی فوج نے ان تازہ واقعات میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بولا ہے۔ اسرائیلی فوج اس چیز کی پروا کرنے والی نہیں کہ اس کی بمباری سے کون مر رہا ہے اور وہ کس کو قتل کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں