فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج نے الشفاء سے 1500 لاشیں اٹھالیں ،مریضوں کے زخموں میں کیڑے پڑچکے

الشفاء ہسپتال میں ڈھائی جانے والی قیامت کے عینی شاہد ایک فلسطینی ڈاکٹر کے لرزہ خیز انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چند روز قبل غزہ کے الشفاء ہسپتال پر اسرائیلی فوج کے حملے کو پوری دنیا میں غیرمعمولی توجہ حاصل ہوئی۔ ہسپتال میں اسرائیلی فوج نے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا اور دسیوں نہتے اور بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

الشفاء ہسپتال کے ایک ڈاکٹر رامیز رضوان نے بتایا کہ جب اسرائیلی فوج نے ہسپتال پر بمباری شروع کی تو وہ وہاں سے کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں نکل گئے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ہسپتال میں جو المیہ ان دنوں دیکھا اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہر طرف بے بسی، موت اور زخموں سے کراہتے مریض اور چیخ پکار تھی۔

چیخ پکار،آہ بکاہ اور گلتی سڑتی لاشیں

ڈاکٹر رامز رضوان نے بتایا کہ ’ہسپتال کی حالت خوفناک ہوچکی تھی اور ہر طرف ظلم کا راج تھا۔ ایسے تباہ کن مناظر میں نے ہسپتال میں اپنے پورے کام کے دوران کبھی نہیں دیکھے۔ ہر طرف لوگوں کی چیخ پکار تھی، آہ وبکاہ تھی، گلتی سڑتی لاشیں تھیں، بھوک اور پیاس سےنڈھال بچے، بوڑھے اور عورتیں تھیں اور ان کے سروں پر اسرائیلی فوج کی بمباری اور توپ خانے کی گولہ باری تھی‘۔

انہوں نے وضاحت کی کہ زخمیوں کو پورے بستروں پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طبی سامان اور علاج کی کمی کے نتیجے میں ان کی حالت بہت نازک تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کے پاؤں میں بیکٹیریا ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ زخموں سے ’کیڑے‘ نکل رہے تھے اور ہسپتال میں زخمیوں کو دینے کے لیے درد کش دوا تک نہیں تھی۔

اسرائیلی فوج نے 1500 لاشیں اٹھا لیں

ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ اسرائیلی فورسز مردہ خانے سے 1500 لاشیں اٹھا کر انہیں گاڑیوں میں نامعلوم مقامات پر منتقل کیا۔

جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 2.4 ملین افراد کی کل آبادی میں سے 1.65 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔

جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد اسرائیل نے 2007ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ناکہ بندی پر عمل درآمد کرتے ہوئے پانی، بجلی، خوراک اور ایندھن کو منقطع کر دیا، جس کی وجہ سے بحران بڑھتا گیا۔

"ڈیتھ زون "

غزہ کے بیشتر ہسپتالوں میں ایندھن ختم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے جنریٹر کو چلانے میں ناکام ہیں۔ حماس کی حکومت کے مطابق غزہ کی پٹی کے 35 ہسپتالوں میں سے 24 غیر فعال ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا ہسپتال الشفاء میڈیکل کمپلیکس ایک "ڈیتھ زون" بن گیا ہے اور اسے خالی کر دیا جانا ضروری ہے۔

ہفتے کی صبح اسرائیلی فوج کی طرف سے ہسپتال کو ایک گھنٹے کے اندر اندر خالی کرنے کا حکم دیا گیا جس کے بعد سیکڑوں مریض اور طبی عملہ ہسپتال چھوڑ گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں