فلسطین اسرائیل تنازع

جنوبی غزہ پر زمینی حملے بھی شروع کر رہے ہیں: اسرائیلی وزیر دفاع

جو سات اکتوبر کو غزہ نے کیا حالیہ عشروں میں دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں: ٹائمز آف اسرائیل سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری بدترین اسرائیلی بمباری اور تقریبا ایک ماہ غزہ پر کیے گئے زمینی حملے کے باوجود اسرائیلی فوج کو حماس کا زور توڑنے کے لیے ابھی غزہ میں جنگ جاری رکھنا ہو گی۔ یہ حقائق اسرائیلی وزیر دفاع کی گذشتہ روز اسرائیل کے معروف روزنامے ' ٹائمز آف اسرائیل ' سے بات چیت کے دوران سامنے آئے ہیں۔

اس موقع پر وزیر دفاع نے کہا ان کی فوج فلسطینی جنگجووں کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اب جلد ہی جنوبی غزہ میں اپنی کارروائیاں شروع کر رہی ہے۔ جنوبی غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی غزہ پر ابھی اسرائیلی بمباری میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔

انہوں نے جنوبی غزہ پر اپنے حملوں کے اس آغاز کو زمینی حملوں کا دوسرا مرحلہ قرار دیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنی افواج کی غزہ میں کارکردگی کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا فوج غزہ کی پٹی کے مشرق میں بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ' حماس کو سخت ضرب لگائی جا رہی ہے اور حماس اپنی سرنگیں، بنکرز اور پوسٹیں چھوڑ نے پر مجبور ہو رہی ہے۔ نیز حماس کے کئی سینئیر کمانڈرز مارے جا چکے ہیں۔

'ہم ہر اس جگہ پر حملے کر رہے ہیں جو حماس کے لیے حساسیت رکھتی ہے۔ ہر آنے والے دن میں حماس کے ٹھکانوں میں کمی ہو رہی ہے۔ اس لیے حماس کے دہشت گردوں کو آس پاس کی طرف منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر نے حماس کو دھمکی دی ' وہ جنوبی غزہ میں جلد اسرائیلی فوج کی موجودگی کو محسوس کر لے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ' سات اکتوبر کو جو حماس نے اسرائیل کے ساتھ کیا ہے اس طرح کا واقعہ حالیہ دہائیوں کے دوران دنیا میں کسی اور جگہ نہیں ہوا تھا۔' اگر کسی نے حماس کو جاننا ہو تو وہ جان لے یہ ہے حماس جو صرف طاقت کو سمجھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ' جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے حماس کے حملے جواب میں بڑی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ درست ثابت ہو رہا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے ' اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کے بارے میں بین الاقوامی سطح سے بہت زیادہ دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ جنگ روکی جائے لیکن ہم نے حماس کو نکال باہر کرنے اور اپنے یرغمالیوں کو رہا کرانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

واضح رہے گذشتہ رات کم از کم 15 شہری اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے یہ بمباری نصیرات پناہ گزین کیمپ اور جنوبی غزہ میں واقع خان یونس شہر میں کی تھی

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی پر جبالیہ، بیت لاھیا اور زیتون کے پڑوس میں بمباری کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں