فلسطین اسرائیل تنازع

حماس نے یرغمالی ہسپتال میں چھپا رکھے؛ اسرائیلی فوج کا فوٹیجز کے ساتھ دعوی

یہ تصاویر ہم پہلے ہی جاری کر چکے، بمباری سے زخمی ہونے والے یرغمالی ہسپتال لائے تھے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل نے 'الشفاء ہسپتال' میں یرغمالی لے جائے جانے کی فوٹیج جاری کرتے ہوئے اپنے اس دعوے کو دہرایا ہے کہ حماس اس ہسپتال کو یرغمالی چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

تاہم حماس نے اسرائیل کے اس دعوے کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعات یرغمالیوں کو ہسپتال میں طبی معائنے اور علاج کے لیے لے جانے کے موقع کے ہیں۔ جن کی ہم پہلے ہی ویڈیو جاری کر چکے ہیں۔

مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اسرائیل کا دعویٰ درست ہے تو وہ اپنے یرغمالیوں کو زندہ رہائی دلانے کے لیے ہسپتال پر بمباری کیوں کرتا رہا، اسے فوجی کارروائی کا ایک سے زائد بار نشانہ کیوں بنایا گیا، اس کی ناکہ بندی کیوں کی گئی، پانی اور بجلی تک کیوں بند کر دیا گیا؟

واضح رہے غزہ کا سب سے بڑا ہسپتال الشفاء اسرائیلی حملوں اور کارروائیوں کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ اس پر بمباری کی گئی، لاک ڈاون کیا گیا ، اس کے اندر ایک سے زائد بار جا کر اسرائیلی فوج نے کارروائی کی ۔ کئی لوگوں کو ہسپتال کے اندر ہی ہلاک کیا گیا یا انہیں بغیر ادویات اور علاج کے مرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

یہ ہسپتال کئی حوالوں سے اسرائیلی فوج کے جنگی بیانیے اور جنگی حمولوں کا ہدف بنا رہا۔ اسی وجہ سے اس کی بندش ہو گئی اور یہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں باہر نہ لے جانے دینے پر اجتماعی قبر کھودنا پڑی تھی۔

اب اسرائیلی فوج نے اس تقریباً ڈیڑھ ماہ پر پھیلی جنگ اور بیانیے میں رنگ بھرنے کے لیے فوٹیج کا سہارا لیا ہے۔ اس فوٹیج کے حوالے سے اسرائیلی دعووں کو حماس کے علاوہ ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی مسترد کیا ہے۔ کہ ہسپتال کے اندر حماس کا کوئی کمانڈ سنٹر کام کر رہا تھا۔

اسرائیلی کی جاری کردہ فوٹیج کے پہلے کلپ میں دکھایا گیا ہے ' یہ سات اکتوبر کے دن دس بجکر ترپن منٹ ہوئے ہیں۔ جب ایک اسرائیلی جس نے ، شارٹس اور نیلی شرٹ پہن رکھی ہے کو کھینچ کر ہسپتال کے ہال نما کمرے کے داخلی دروازے سے لایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ پانچ افراد ہیں جن میں سے کم از کم تین افراد مسلح ہیں۔

دوسری ویڈیو میں سات اکتوبر ہی کے روز دس بجکر پچپن منٹ کا وقت ظاہر ہو رہا ہے۔ ایک زخمی شخص کو لایا جارہا ہے ، جس نے انڈر وئیر پہن رکھا ہے۔ اسے لانے والے سات آدمی ہیں۔ جن میں سے کم از کم چار افراد مسلح ہیں۔

تاہم بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں سے کوئی اسرائیلی دعووں کی غیر جانبدرانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان ڈینئیل ہگاری کے مطابق آپ ان 'فوٹیجز' میں دو افراد کو دیکھ سکتے ہیں یہ نیپال اور تھائی لینڈ کے شہری ہیں۔ جنہیں مغوی بنایا گیا۔تاہم ابھی تک ہم ان کی جگہ کو تلاش نہیں کر سکے یہ کہاں رکھے گئے ہیں۔ ہم نہیں جانتے۔ '

اسرائیل کی فوجی اور خفیہ سروس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 'یہ چیزٰ ثابت ہوتی ہے کہ حماس نے سات اکتوبر کو ہسپتال مغویوں کے لیے استعمال کیا۔ '

اس کے برعکس حماس کے سیاسی بیورو کے سینئیر رکن عزت الرشق کا کہنا ہے کہ 'متعدد مغویوں کو طبی ضرورتوں اور علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ خصوصاً ان مغویوں کو ہسپتال لے کر کئے جو اسرائیلی بمباری سے زخمی ہو چکے تھے۔'

ان کا کہنا تھا ' ہم یہ تمام تصاویر پہلے ہی جاری کر چکے ہیں جنہیں اسرائیلی فوجی ترجمان بڑی اداکاری کے انداز سے اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔'

اس سے قبل اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ 'ہمارے فوجیوں نے 55 میٹر لمبی سرنگ دریافت کی ہے جو دہشت گردوں کی ہے۔ اور ہسپتال کے نیچے ہے۔'

جبکہ ہگاری نے مغوی اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی موت اسرائیلی بمباری سے نہیں ہوئی بلکہ اسے حماس نے ہلاک کیا ہے۔ وہ 19 سالہ فوجی نوا مارسیانوں کا ذکر کر رہے تھے۔ جس کی لاش لنے کا فوج نے اس کی باقیات الشفاء کے ارد گرد کے علاقے سے تلاش کی ہیں۔ جسے 'الشفاء ' کے بہت قریب رکھا گیا تھا۔ '

ہگاری نے یہ بھی کہا ۔ 'ان کی 19 سالہ فوجی نوا کے زخم جان لیوا نہیں تھے۔ حماس اسے زخمی ہونے کے بعد ہسپتال لائی اور پھر اسے ہسپتال کے اندر ہلاک کیا گیا۔ ہمارے پاس ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹ ہے کہ وہ علاج سے بچ سکتی تھی مگر اسے ہسپتال میں لا کر مار دیا گیا، بعد ازاں ا سکی لاش کو ہسپتال سے باہر ایک نارنجی رنگ کے اسٹریچر پر رکھ دیا گیا ۔ اس اسٹریریچر کو ہمارے فوجیوں نے دیکھ لیا۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں