شفا ہسپتال کے نیچے 55 میٹر طویل سرنگ ملی ہے: اسرائیلی دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں شفا ہسپتال کے نیچے 55 میٹر لمبی سرنگ تلاش کرلی ہے۔ اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے اس نے سرنگ کی ویڈیو بھی شائع کی ہیں۔

فوج نے ایک ویڈیو کلپ کے ساتھ ایک فوجی بیان میں وضاحت کی کہ سرنگ دس میٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔ دوسری طرف عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ہسپتال میں اب بھی درجنوں مریض اب بھی موجود ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا وہ داخلی سلامتی سروس (شاباک ) اور انٹیلی جنس سروس (امان) کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر سرنگ کو سامنے لانے کے لیے شفا ہسپتال منتقل ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ سرنگ جس سے ایک گہری سیڑھیاں داخلی دروازے کی طرف جاتی ہیں کو مختلف دفاعی اقدامات سے لیس کیا گیا ہے۔ اس میں ایک بالائی دروازہ اور فائرنگ کا سوراخ بھی موجود ہے۔ اس قسم کا دروازہ حماس ہماری افواج کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہاں حماس کا ہیڈ کوارٹرز اور اس کے زیر زمین اثاثے موجود ہیں۔

فوج نے یہ بھی کہا کہ اسے سرنگ کے کھلنے کے وقت ایک کار ملی جس میں بہت سے ہتھیار تھے۔ فوجی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج سرنگ کے راستے کھولنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید برآں، فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے ’’ ایکس‘‘ پر انکشاف کیا کہ حماس کے 100 سے زائد ارکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان میں تین وہ ارکان بھی ہیں جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے میں حصہ لیا تھا۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے کہا کہ طبی عملے، زخمیوں اور بے گھر افراد کو بندوق کی نوک پر شفا میڈیکل کمپلیکس خالی کرنے پر مجبور کیا گیا۔

فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اس کی ایمبولینس کے عملے نے اتوار کو عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے تعاون سے شفا ہسپتال سے قبل از وقت پیدا ہونے والے 31 بچوں کو نکال لیا ہے۔ ان بچوں کو بعد میں امارات منتقل کردیا گیا۔

یہ میڈیکل کمپلیکس اس وقت زمینی کارروائیوں کے مرکز میں تبدیل ہو گیا جب بدھ کو اسرائیلی فوج نے اس پر دھاوا بول دیا تھا اور اپنے حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس اس ہسپتال کے تہ خانوں کو استعمال کر رہی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس ہسپتال کو کھنگال ڈالا مگر وہ ہسپتال میں حماس کے کسی مرکز کی موجودگی ظاہر نہ کر سکی تھی۔

حماس کی طرف سے بارہا اسرائیلی الزام کی تردید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے بھیج دی جائے۔

اسرائیلی ٹینکوں کے حصار میں موجود شفا میڈیکل کمپلیکس سے ہفتہ کو سینکڑوں افراد پیدل جنوب کی طرف نکلے۔ صلاح الدین سٹریٹ پر ان پر حملہ کردیا گیا۔ صہیونی فوج کے اس حملے کے بعد سڑک پر لگ بھگ 15 لاشیں بکھری ہوئی دیکھی گئیں۔

یاد رہے 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اس جنگ میں 44 دنوں کے دوران 13000 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ 6000 فلسطینی لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال ہے وہ بھی شہید ہوچکے ہیں اور ان کی لاشیں بمباری میں ملیامیٹ کی گئی عمارتوں کے ملبے تلے موجود ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر فلسطینی تحریک کے اچانک حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں تقریباً 1200 اسرائیلی مارے گئے تھے۔شہدا میں 5500 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ 30000 فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں