عالمی ادارہ صحت حماس کا ساتھی ہے:اسرائیلی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارہ صحت [ڈبلیو ایچ او] کی طرف سے غزہ کی پٹی میں نہتے شہریوں پراسرائیلی فوج کے حملے بالخصوص ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کے کو اسرائیل ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کررہا ہے۔

غزہ کی پٹی پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک طرف اقوام متحدہ اور اس کی تنظیموں کے درمیان اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تناؤ برقرار ہے

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے الشفاء ہسپتال میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد اسے "ڈیتھ زون" میں تبدیل ہونے کے اعلان پر اسرائیل سخت چراغ پا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی عالمی ادارۂ صحت نے الشفاء ہسپتال کو "ڈیتھ زون" میں تبدیل کرنے کے بعد اسے خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حماس کے ساتھی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوتریس کی جانب سے اسرائیل پر تنقید کے بعد تل ابیب نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کو اجازت نہ دینے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کے روز اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کو اس کی سنگین غفلت کے نتیجے میں کسی بھی جانی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے حماس کی "انسانی ڈھال کی حکمت عملی" کے دعوے کے ساتھ ملی بھگت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا یہ اعلان اسرائیل کے کہنے کے 37 دن بعد آیا ہے کہ حماس ہسپتال کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، تاہم حماس ہسپتالوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مکمل طور پر تردید کرتی ہے۔

تاہم اسرائیلی اہلکار کے الزامات نے سوشل میڈیا پر بہت سے مبصرین کی حیرانی میں اضافہ کیا ہے۔ بعض صارفین نے وزیر کے بیان پر تنقید کی ہے۔

زمینی آپریشنز کا مرکز

قابل ذکر ہے کہ الشفا کمپلیکس کو چند روز قبل زمینی کارروائیوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد گذشتہ بدھ کو اسرائیلی فوج نے اس پر دھاوا بول دیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حماس ہسپتال کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔

گذشتہ چند دنوں میں حماس کی طرف سے بارہا اس کی تردید کی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی تحقیقات کے لیے بھیجی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں