فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں اقوام متحدہ کے اسکولوں پر حملے سے گہرا صدمہ پہنچا: گوتیریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے غزہ میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ’اونروا‘ کے دو اسکولوں کو نشانہ بنائے جانے پر شدید صدمے کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی اسکولوں میں موجود بے گھر افراد پر بمباری میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ گوتیریس نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی عمارتوں کے تقدس کا خیال رکھا جائے اور ان پر حملے نہ کیے جائیں۔

گوتیریس نے اتوار کے روز ایک بیان میں مزید کہا کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد "حیران کن اور ناقابل قبول" ہے۔انہوں نے انسانی وجوہات کی بنا پر فوری جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ سے شہریوں کی ہلاکتوں کی ہولناک تعداد ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ یاد رہے کہ درجنوں فلسطینی، جن میں سے اکثر خواتین اور بچے ہیں، غزہ میں اقوام متحدہ کی تنصیبات میں پناہ لینے کے دوران اسرائیلی بمباری سے شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

ایک متعلقہ سیاق و سباق میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی میں حالیہ دنوں میں تشدد کی سطح ناقابلِ فہم ہے۔ اسکولوں پر حملوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد اور ایک ہسپتال "ڈیتھ زون" میں تبدیل ہو گیا ہے۔

الشفا ہسپتال کا منظر
الشفا ہسپتال کا منظر

ولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جو ہولناک واقعات رونما ہوئے ہیں وہ تصور سے باہر ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ "اسکولوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا قتل جو پناہ گاہیں بن چکے ہیں، اور سیکڑوں لوگوں کا الشفاء ہسپتال سے اپنی جان بچا کر بھاگنا اور بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ولکر ترک نے میڈیا کو اقوام متحدہ کے الفاخورہ اسکول پربمباری کے بعد تباہی کی لی گئی تصاویر دکھائیں اورانہیں ’ہولناک‘قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں