اسرائیلی مغوی فوجیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں۔ قطر

مغویوں کی رہائی کے لیے پرامید ، انسانی بنیادوں پر جنگ بندی بھی لازمی ہے۔ قطری ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں قید اسرائیلی فوجیوں اور عام شہریوں کی حماس سے رہائی کے سلسلے میں مذاکرات کرنے والے قطر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ' مذاکرات آخری مرحلے میں اور کامیابی کے قریب ہیں۔ یہ بات منگل کے روز کہی گئی ہے۔

قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ' مذاکرات اہم اور حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔'

واضح رہے قطر سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی مغویوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے ایک مذاکرات کار اور ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی کوششوں سے اب تک چار مغوی رہا ہو چکے ہیں۔

اس بارے میں ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ' ہم بہت پر امید ہیں، بڑے ہی پر امید ۔، لیکن اس کے ساتھ ہی ہم کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں انسانی بنیادوں پر ایک جنگ بندی تک بھی پہنچنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔'

سات اکتوبر سے اسرائیل کے 240 فوجی اور شہری غزہ میں حماس کی قید میں ہیں جن میں سے اب تک انسانی بنیادوں پر صرف چار کی رہائی ہو سکی ہے۔ جبکہ 13300 فلسطینی شہری اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 5500 سے زائد فلسطینی بچے بھی ہلاک ہونےوالوں میں شامل ہیں۔

ہفتے کے روز امریکہ کی طرف سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک محفوظ ڈیل پر اب بھی کام کر رہا ہے۔

تاہم اسرائیل اس سلسلے میں مزید وقت لے رہا ہے۔ ایک جانب اسرائیل جنگ بندی نہیں کرنا چاہتا اور دوسری جانب حماس اور فلسطینوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے بلکہ انہیں تباہ کرنے کا ہدف اس کے سامنے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں