فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل اور حماس جنگ میں جنگ بندی معاہدے کے قریب ہیں: حماس سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

حماس کے سربراہ نے منگل کو رائٹرز کو بتایا، فلسطینی گروپ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے قریب ہے حالانکہ غزہ پر مہلک حملہ اور اسرائیل کے علاقوں میں راکٹ فائرنگ جاری ہے۔

اسماعیل ہنیہ نے اپنے معاون کی طرف سے رائٹرز کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا، "حماس کے اہلکار اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں" اور گروپ نے قطری ثالثین کو اپنا جواب پہنچا دیا ہے۔

حماس کے عہدیدار عزت الرشق نے منگل کو ایک نشریاتی ادارے کو بتایا کہ مذاکرات غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے انتظامات اور یرغمالیوں-قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی کے بارے میں تھے۔

انہوں نے مزید کہا، "متوقع معاہدے میں یرغمال اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی قابض فوج کی جیلوں میں موجود فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی شامل ہے۔"

الرشق نے کہا کہ جنگ بندی کی تفصیلات کا اعلان قطری حکام کریں گے۔

ممکنہ معاہدے کی شرائط کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں ملیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو کہا کہ انہیں یقین تھا کہ ایک معاہدہ ہونے والا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک معاہدے کے بارے میں کہا، "ہم پہلے سے کہیں زیادہ (معاہدے پر پہنچنے کے) قریب ہیں۔" اس کا مقصد غزہ میں قید کچھ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا اور لڑائی میں وقفہ کرنا ہے جس سے محصور انکلیو میں اشد ضروری امداد پہنچ سکے گی۔

7 اکتوبر کو اسرائیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران حماس نے تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جس میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔

جنیوا میں قائم آئی سی آر سی نے ایک بیان میں کہا، بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر (آئی سی آر سی) کی صدر مرجانا سپولجارک نے پیر کو قطر میں ہنیہ سے ملاقات کی تاکہ تنازع سے متعلق "انسانی ہمدردی کے مسائل کو آگے بڑھایا جا سکے۔" انہوں نے قطری حکام سے الگ ملاقات بھی کی۔

آئی سی آر سی نے کہا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں تھا لیکن ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر وہ "مستقبل کی کسی بھی رہائی کی سہولت کے لیے تیار ہے جس پر فریقین متفق ہوں۔"

یرغمالیوں کی رہائی کے ایک قریبی معاہدے کی باتیں کئی دنوں سے زیرِ گردش ہیں۔ ایک اہلکار کی مذاکرات پر بریفنگ کے حوالے سے رائٹرز نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ قطری ثالث حماس اور اسرائیل کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کے بدلے 50 یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے ایک معاہدے کے خواہاں تھے جس سے غزہ کے شہریوں کو ہنگامی امداد کی ترسیل میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ میں اسرائیلی سفیر مائیکل ہرزوگ نے اتوار کے روز اے بی سی کے پروگرام "دس ویک" میں کہا کہ انہیں "آئندہ دنوں میں" معاہدہ ہو جانے کی امید تھی جبکہ قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ باقی رہ جانے والے نکات "بہت معمولی" تھے۔"

اس سے پہلے ایک معاہدہ قریب آچکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جون فائنر نے اتوار کو این بی سی کے "میٹ دی پریس" پروگرام کو بتایا، "اس طرح کے حساس مذاکرات آخری لمحات میں ٹوٹ سکتے ہیں۔ جب تک ہر چیز پر اتفاق نہ ہو جائے تب تک کسی چیز پر اتفاق نہیں ہوتا۔"

7 اکتوبر کو حماس کا حملہ اسرائیل کی 75 سالہ تاریخ کا مہلک ترین دن تھا جس نے اسرائیل کو حماس کو نشانہ بنانے کے لیے فلسطینی سرزمین پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی حکومت نے کہا کہ تب سے اسرائیلی بمباری سے کم از کم 13,300 فلسطینی مارے گئے ہیں جن میں کم از کم 5,600 بچے اور 3,550 خواتین شامل ہیں۔

حماس نے پیر کو اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر کہا کہ اس نے تل ابیب کی طرف میزائلوں کی بوچھاڑ کی ہے۔ عینی شاہدین نے بھی وسطی اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کی اطلاع دی۔

ہسپتالوں کو خطرہ

فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے کہا ہے کہ منگل کے روز وسطی غزہ میں آدھی رات کو نصیرات کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں کم از کم 17 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی ٹینکوں سے گھرے ہوئے انڈونیشیئن ہسپتال کے احاطے میں فائرنگ سے کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

صحت کے حکام نے بتایا کہ عملے کے ساتھ 700 مریض اسرائیلی فائرنگ کی زد میں تھے۔

وفا نے کہا کہ انڈونیشیا کی تنظیموں کی طرف سے مالی اعانت کردہ اور شمال مشرقی غزہ کے قصبے بیت لاہیا میں واقع اس سہولت کو توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔ ہسپتال کے عملے نے اس بات سے انکار کیا کہ احاطے میں کوئی مسلح عسکریت پسند موجود تھا۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریسس نے کہا کہ وہ اس حملے سے "خوف زدہ" تھے جس کے بارے میں انہوں نے بھی غیر متعینہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مریضوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ فوجیوں نے ہسپتال میں موجود جنگجوؤں پر جوابی فائرنگ کی جبکہ غیر جنگجوؤں کے "نقصان کو کم از کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات" کیے گئے۔

غزہ کے شمالی نصف حصے میں صحت کی دیگر تمام سہولیات کی طرح انڈونیشیئن ہسپتال نے بھی زیادہ تر کام بند کر دیا ہے لیکن وہ مریضوں، عملے اور بے گھر رہائشیوں کو بدستور پناہ دے رہا ہے۔

غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفاء سے انخلاء کردہ 28 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو پیر کے روز فوری علاج کے لیے مصر لے جایا گیا۔

اسرائیلی افواج نے گذشتہ ہفتے الشفاء پر قبضہ کر لیا تھا تاکہ ان کے مطابق ہسپتال کے نیچے حماس کی طرف سے بنائے گئے سرنگوں کے نیٹ ورک کی تلاشی لے جا سکے۔ سینکڑوں مریضوں، طبی عملے اور بے گھر افراد نے ہفتے کے آخر میں شفاء کو چھوڑ دیا جس کے بارے میں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ انہیں فوجیوں نے نکالا جبکہ اسرائیل نے کہا کہ یہ روانگی رضاکارانہ تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں