ایک انوکھا واقعہ، ربع الخالی میں شترمرغ کے انڈے ملنے سے سعودی حیران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے صحرائے ربع الخالی سے ملنے والے شتر مرغ کے انڈوں کو دیکھ کر شہری حیران رہ گئے۔

صحرا سے ملنے والے شتر مرغ کے انڈوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ایسے وقت میں جب بنجر صحرا میں شتر مرغ کے وجود پر سوالیہ نشان اٹھے تھے یہ بات حیران کن ہے کہ آیا اس علاقےمیں شتر مرغ کہاں سے آگیا۔ شہریوں نے شتر مرغ کے انڈوں کےماہرین سے کہا ہے کہ تحقیق کرکے بتائیں کہ آیا یہ انڈے کتنے پرانے ہیں۔

جب کہ ایک ٹویٹر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "جزیرہ نما عرب اس طرح کی قدیم دریافتوں، نوشتہ جات، فوسلز، جانداروں کی باقیات اور بہت سی معدوم ہونے والی مخلوقات کی ہڈیاں مل چکی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ شتر مرغ کےانڈوں کو چھونے سےگریز کرنا چاہیے اور ان کے پرانے ہونے کےمعاملے کو ماہرین پر چھوڑ دینا چاہیے۔

ایک اور صارف نے کہا کہ "میں ایک ماحولیاتی ماہر ہوں۔ میری معلومات کے مطابق عربی شتر مرغ جزیرہ نما عرب سے ناپید ہو چکا ہے، اور افریقی شتر مرغ اب درآمد کیا گیا ہے۔ یہ وہی ہے جو ہم ذخائر میں دیکھتے ہیں۔ انڈے افریقی شتر مرغ کے ہو سکتے ہیں۔

پرندوں اور جانوروں کے نشانات

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایکسپلورر مارک ایونز اور ان کی ٹیم نے ایکسپلورر عبداللہ فلبی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جزیرہ نمائے عرب کے قلب کا جو سفر کیا، اس میں انہیں پرندوں اور جانوروں کے آثار ملے۔ ان میں شتر مرغ، شیر اور عقاب کے ساتھ ساتھ ڈرائنگ اور چٹان پر کندہ کاری کے مختلف نمونے بھی شامل ہیں۔

تلاش کرنے والی ٹیم نے "نفود دلقان" میں شتر مرغ کے انڈوں کی باقیات کا حوالہ دیا جو ریت کے ٹیلوں کے درمیان سے ملے۔ اس کے علاوہ "ماؤنٹ مصییقلا" کی چوٹی پر پتھروں پر بنائے گئے نقوش کا پتا چلایا۔ اس اعتبار سے یہ علاقہ کسی زمانےمیں انسانی آبادی کا مرکز رہا ہےمگر وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ ویران صحرا میں تبدیل ہوچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں