فلسطین اسرائیل تنازع

صدر صلیب احمر کی غزہ جنگ کے انسانی مسائل پر حماس کے سربراہ سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صلیب احمر (ریڈ کراس) نے پیر کو کہا کہ اس کی صدر نے "اسرائیل اور غزہ میں مسلح تصادم سے متعلق انسانی مسائل کو آگے بڑھانے کے لیے" حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کے لیے قطر کا سفر کیا تھا۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا، "صدر مرجانا سپولجارک نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ (اسماعیل) ہنیہ اور قطر کی ریاست کے حکام سے الگ الگ ملاقات کی۔"

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب مذاکرات کاروں نے 240 میں سے کچھ افراد کی رہائی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کام کیا جنہیں 7 اکتوبر کو اسلام پسند عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر اپنے بے مثال حملوں کے دوران یرغمال بنا لیا تھا۔

اسرائیلی حکام کا بیان ہے کہ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے حکام کے مطابق اسرائیل کی فضائی اور زمینی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں 13,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری اور ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔

آئی سی آر سی نے زور دیا کہ سپولجارک کا دورہ بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کو بہتر بنانے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

کمیٹی نے نشاندہی کی کہ وہ "حالیہ ہفتوں میں متعدد بار غزہ میں یرغمالیوں کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ سینئر اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے بھی مل چکی ہیں۔"

جنیوا میں قائم تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ "تصادم میں تمام متأثرین کے فوری تحفظ اور غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی صورتِ حال کے خاتمے کے لیے اس کی اپیل جاری ہے۔"

بیان میں کہا گیا، "غزہ میں آئی سی آر سی کا عملہ جان بچانے والی امداد فراہم کر رہا ہے اور ایک آئی سی آر سی سرجیکل ٹیم آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔" اور مزید کہا کمیٹی "مستقل، محفوظ انسانی رسائی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ وہ اپنے کام کو بڑھا سکے۔"

تنظیم نے زور دیا کہ اس نے "یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مسلسل مطالبہ کیا ہے۔"

اس نے کہا، "آئی سی آر سی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ہماری ٹیموں کو یرغمالیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی خیریت کا پتا چلے اور دوائیں فراہم کی جا سکیں اور یرغمالیوں کو ان کے اہل خانہ سے بات چیت کرنے کے قابل بنایا جائے۔"

مزید کہا گیا۔ "ایسے معاہدات پر پہنچنا ضروری ہے جو اس کام کو محفوظ طریقے سے انجام دینے کی اجازت دیتے ہیں۔ آئی سی آر سی زبردستی اس جگہ نہیں پہنچ سکتا جہاں یرغمالیون کو رکھا گیا ہے اور نہ ہی ہمیں ان کے مقام کا علم ہے۔"

آئی سی آر سی جس نے پہلے ہی دو الگ الگ مواقع پر چار یرغمالیوں کی رہائی میں مدد فراہم کی ہے، اس بات پر زور دیا کہ وہ "یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں حصہ نہیں لیتا۔"

لیکن اس نے مزید کہا، "انسانی ہمدردی کے ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر ہم مستقبل میں کسی بھی رہائی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں جس پر تنازع کے فریق متفق ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں