فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں انڈونیشی ہسپتال پر حملے"بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے":مشیر نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے مشیر نے غزہ کی پٹی کے انڈونیشیا ہسپتال پرحملے کا دفاع کرتےہوئے اسے حملے کو بین الاقوامی قانون کے مطابق قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر اوفیر فالک نے پیر کے روز امریکی نیوز نیٹ ورک ’سی این این‘ کو دیے گئے انٹرویو میں مزید کہا کہ "شمالی غزہ میں انڈونیشیا ہسپتال میں اسرائیل کی فائرنگ متناسب اور آئین اور قانون کے مطابق تھی"۔

انھوں نے مزید کہا کہ فوج "بین الاقوامی قانون، تناسب اور معیاری کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا مقصد حماس کو ختم کرنا ہے،اس کے لیے جو ضروری ہوا ہم کریں گے اور غزہ میں ہماری کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کیے عین مطابق ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج حماس کو تباہ کرنے کی کوششوں کے دوران عام شہریوں اور دہشت گرد عناصر کے درمیان واضح طور پر فرق کرتی ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق ہسپتال کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کے نتیجے میں 12 افراد شہید ہوگئے۔ فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں مریض اور طبی عملہ بھی شامل ہے۔

خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ 200 زخمیوں کو غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس کے الشفا میڈیکل کمپلیکس سے نکالے جانے کے بعد انڈونیشیا ہسپتال پہنچایا گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے زور دے کر کہا تھا کہ ان کا ملک غزہ میں اس وقت تک لڑائی بند نہیں کرے گا جب تک وہ حماس کے زیر حراست افراد کو واپس نہیں کر دیتا اور حماس کو کچل نہیں دیتا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے پیر کے روز یرغمالیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ جب تک غزہ میں حماس کے زیر حراست افراد کو واپس نہیں کیا جاتا وہ آرام نہیں کریں گے۔ نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذمہ داری اور جنگی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم غزہ میں حماس کی قیادت میں موجود شہریوں کو واپس لائیں "۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں