غزہ میں سنجیدہ امن عمل اور جنگ بندی کا آغاز ہونا چاہیے:فیصل بن فرحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے آج منگل کو زور دے کر کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے مگر ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

ان کی یہ بات روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے متعدد وزرائے خارجہ کے درمیان ماسکو میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اسرائیل کا دفاع قرار نہیں دیا جا سکتا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک سنجیدہ امن عمل، جنگ بندی اور انسانی امداد پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تشدد اور شہریوں پر حملوں کو روکنے سے پہلے غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بین الاقوامی قانونی اور اخلاقی معیارات کو لاگو کرنے اور نہتے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے کیے جانے والے گھناؤنے جرائم پر حرکت میں آنے پر زور دیا‘‘۔

لاوروف کے ساتھ ملاقات میں سعودی عرب، فلسطین، اردن، مصر، انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں