فلسطین اسرائیل تنازع

'ہم کچھ نہیں جانتے یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت کیا رہی ہے۔'

یرغمالی اسرائیلیوں کے والدین اپنے بچوں کو یاد کرتے کرتے روپڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں یرغمال بنے اسرائیل فوجیوں اور شہریوں کے اہل خانہ نے سات اکتوبر سے اب تک جاری اپنی مشکلات اور تکلیف کو ' خوفناک خواب ' قرار دیا ہے۔ اپنے اوپر بیتنے والے حالات کو ان اہل خانہ نے پیر کو اس طرح بیان کیا ہے۔

ان کی تشویش کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ انہیں آج تک نہیں بتایا گیا کہ اسرائیلی حکومت کی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کیا بات چیت چل رہی اور کیا ڈیل ہو رہی ہے۔ یہ بھی نہیں بتایا ہے کہ کچھ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت ہو رہی ہے تو وہ کیا ہے۔ ؟

واضح رہے قطر کے وزیر اعظم نے اتوار کے روز کہا تھا ' یر غمالیوں کی رہائی کے لیے معمولی مگر عملی چیلنج درپیش ہیں۔

'تھامس ہینڈ ' نے کہا ' ہم ابھی تک بہت ہی تھوڑی اطلاعات رکھتے ہیں۔ میں ان اطلاعات پر اسی وقت یقین کروں گا جب میں اسے خود دیکھ سکوں گا۔' 'تھامس ہینڈ ' کی 9 سالہ بیٹی ایملی بھی یرغمالیوں میں سے ایک ہے۔

'اریس ھیم ' کا 28 سالہ بیٹا بھی یرغمالیوں میں شامل ہے۔ اریس ھیم کا کہنا ہے کہ ' ہم کچھ نہیں جانتے، جو کچھ آپ خبروں میں سنتے ہیں وہ ہم نہیں جانتے ہیں۔

'اریس ھیم 'نے کہا ' اگر کوئی ڈیل ہوتی ہے تو سب سے پہلے یرغمالی بچوں اور عورتوں کو رہائی ملنی چاہیے۔ بے شک میرا بیٹا بھی بعد میں رہائی پالے تو کوئی بری بات نہیں ہو گی۔

'اریس ھیم' نے مزید کہا ' میری رائے میں یر غمالیوں کی رہائی مرحلہ وار ہی ممکن ہے۔ میں نہیں سمجھتی کہ وہ سب کو اکٹھے رہا ہونے دیں گے۔

'تھامس ہینڈ' نے کہا۔ میری بیٹی قید میں مجھے یاد کر کے ہر روز کہتی ہو گی کہ ' میرا باپ کہاں ہے وہ مجھے بچانے کیوں نہیں آرہا ؟ یہ سب میرے لیے ایک برے خواب سے کم نہیں ہے۔

'اورٹ میئر' 21 سالہ ایلموگ کی ماں ہیں۔ ان کا کہنا تھا ' جس طرح ہم اس وقت رہ رہے ہیں یہ مکمل طور پر ایک خوفناک خواب ہے۔ نہ ہمیں نیند آتی ہے نہ بھوک لگتی ہے، سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔' اس نے روتے ہوئے کہا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں