اسرائیل اورحماس کےدرمیان معاہدہ 'اہم قدم'ہےلیکن مزیداقدامات کی ضرورت ہے: اقوامِ متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں لڑائی اور بمباری کو روکنے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا لیکن کہا ہے کہ مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل اور حماس نے بدھ کے روز یرغمالیوں اور متعدد فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا جبکہ غزہ کے محصور باشندوں کو ہفتوں کی جنگ کے بعد چار روزہ جنگ بندی کی پیشکش کی گئی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ وہ "مصر اور امریکہ کی حمایت سے قطر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔"

"یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے لیکن ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔"

گوتریس نے کہا، اقوام متحدہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تعاون فراہم کرے گا۔

غزہ کی اب تک کی خونریز جنگ میں پہلی بڑی سفارتی پیش رفت میں فلسطینی عسکریت پسند 50 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں جنہیں انہوں نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں اپنے مہلک چھاپوں کے دوران یرغمال بنا لیا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا لیکن اقوامِ متحدہ کے ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ اس سے شہریوں کی تکالیف ختم نہیں ہوں گی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر کہا، "ہم 50 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل-حماس کے معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔"

"میرے خیالات ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جن میں سے کچھ سے میرے ڈبلیو ایچ او کے ساتھی اور میں حالیہ ہفتوں میں ملے۔ ہم لڑائی میں چار دن کے وقفے کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں جس سے مزید امداد غزہ تک محفوظ طریقے سے پہنچائی جا سکے گی۔"

لیکن انہوں نے مزید کہا کہ "یہ شہریوں کی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے" اور "جو لوگ اب بھی قید میں ہیں، انہیں ضروری طبی امداد ملنی چاہیے۔"

"ہم تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم جنگ بندی کا مطالبہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ غزہ کے شہریوں کو بحالی کے لیے مستقل، محفوظ اور بڑے پیمانے پر مدد مل سکے۔"

جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر کو حماس کے مسلح افراد نے اسرائیل کی تاریخ کا بدترین حملہ کیا جس میں اسرائیلی حکومت کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس اور دیگر فلسطینی عسکریت پسند گروہوں نے اندازاً 240 اسرائیلیوں اور غیر ملکیوں کو یرغمال بھی بنا لیا جن میں بزرگ اور کمسن بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل نے حماس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے یرغمالیوں کو گھر واپس لانے اور عسکریت پسند گروپ کو تباہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس نے غزہ میں ایک بڑی بمباری مہم اور زمینی کارروائی شروع کر دی جس میں حماس کی حکومت کے مطابق 14,100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں بچے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں