امریکی فوج نے عراق میں فوجی اڈے پر حملے کا جواب دیتے ہوئے بمباری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی فورسز نے عراق میں قائم اپنے فوجی اڈے 'عین الاسد ایئر بیس' پر منگل کی صبح ہونے والے حملے کا جواب دیتے ہوئے دفاعی کارروائی کی ہے۔ بغداد کے مغرب میں یہ امریکی فوجی اڈہ اس سے پہلے بھی کئی راکٹ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ تاہم اب تک کا یہ پہلا رپورٹ کیا گیا واقعہ ہے۔ جس میں عراق میں موجود امریکی فوجیوں نے جوابی حملہ کیا ہے۔

7 اکتوبر سے جاری اسرائیل حماس جنگ کے بعد حماس کے حامی گروپوں نے عراق اور شام میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بار بار نشانہ بنایا ہے۔ یہ گروپ ایرانی حمایت یافتہ قرار دیے جاتے ہیں اور اسرائیل کو اندھی امریکی حمایت ملنے پر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ 'عین الاسد' فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں معمولی زخمیوں کے علاوہ اڈے کے 'انفراسٹرکچر' کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ امریکی فورسز نے جوابی حملے میں 'اے سی 130' گن شپ استعمال کیے ہیں۔

امریکی جنگی طیاروں نے اپنی اس کارروائی میں کئی ایرانی حمایت یافتہ جنگجووں کو ہلاک کیا ہے۔ جبکہ ایران کے حامی عراقیوں نے امریکیوں کو اپنے 'شارٹ رینج بلیسٹک میزائل' سے نشانہ بنایا تھا۔ اس امر کی پینٹاگون نے بھی تصدیق کی ہے۔

امریکی جنگی طیارے 'اے سی 130 ' نے 'عین الاسد' فوج اڈے پر کارروائی کا فوری جواب دیتے ہوئے جنگجو ملیشیا کے اہلکاروں آور ان کی گاڑیوں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ امریکی ترجمان کے مطابق اس کارروائی میں متعدد جنگجو مارے گئے۔

اس سے قبل منگل ہی کے روز عراقی ملیشیا گروپس نے امریکی اہداف پر تین مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہ حملے شام میں بھی کیے گئے تھے۔

منگل کی صبح ایران کے حامی سوشل میڈیا اکاونٹ سے عراقی مزاحمتی گروپوں کے اس فرد کے لیے سوگ کا اظہار کیا گیا تھا جسے امریکہ کے خلاف لڑائی میں مارا گیا بتایا گیا تھا۔

خیال رہے عراقی مزاحمتی گروپوں میں سے یہ کسی فرد کی 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری کے بعد امریکہ کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں پہلی ہلاکت ہے۔ جو عراق میں بتائی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں