حماس کے زیر حراست قیدیوں کی بازیابی کا عمل جمعرات سے شروع ہوگا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے بدھ کے روز آرمی ریڈیو کو بتایا کہ اسرائیل کو توقع ہے کہ وہ کل جمعرات کو غیر ملکی ثالثی کے معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی سے حماس کے آزاد کرائے گئے قیدیوں کو بازیاب کرائے گا۔

ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس رپورٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی بازیابی کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے شروع ہو جائے گا۔

یہ بات اسرائیلی کابینہ کی جانب سے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے تباہ کن جنگ عارضی طور پر رک جائے گی۔

اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ معاہدے کے وسیع خاکہ کے تحت حماس تقریباً 240 قیدیوں میں سے کم از کم 50 کو رہا کرے گی جنہیں 7 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت چار دن تک غزہ میں جنگ بند رہے گی اور غزہ میں روزانہ امدادی سامان اور ایندھن سے لدے تین سو ٹرکوں کوداخل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کی صبح کابینہ کی ووٹنگ سے قبل کہا کہ جنگ جاری رہے گی چاہے کوئی معاہدہ طے پا جائے۔

اسرائیلی وزارت انصاف کی جانب سے معاہدے میں توسیع کی صورت میں 300 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈیڑھ سو قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں