حوثی عدالت نے یمن کی انسانی حقوق کارکن فاطمہ العرولی کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صنعا میں حوثیوں کے زیر کنٹرول عدالت نے یمن کی انسانی حقوق کی کارکن فاطمہ العرولی کے خلاف بدنیتی پر مبنی الزامات عائد کیے جانے کے بعد ان کے کیس کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ ممکنہ طور پر فاطمہ کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے کیونکہ ان پر جو الزامات عاید کیے گئے ہیں ان میں سزائے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

حوثیوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی نے فاطمہ العرولی کے خلاف فیصلہ جاری کرنے کی مخصوص تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔

حوثی گروپ نے سماجی کارکن فاطمہ العرولی کو 14 اگست 2022 کو تعز شہر کے مشرق میں الحوبان پوائنٹ سے اس وقت اغوا کیا جب وہ عدن شہر جا رہی تھیں۔ اسے صنعاء کی ایک خفیہ جیل میں لے جایا گیا اور جبری طورپر غائب کردیا گیا۔ کئی ہفتے حراست میں رکھنے کے بعد ان کے خلاف حوثیوں کی ایک نام نہاد عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

گذشتہ اگست میں حوثی عدالتی حکام نے فاطمہ العرولی کو اس کی گرفتاری کے ایک سال بعد جارحیت کی حمایت کرنے اور ریاستی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں حـصہ لینے کا مقدمہ دائر کیا۔

عرب لیگ کی عرب خواتین کی قیادت یونین کے یمن کے دفتر کی سابق سربراہ اور خواتین کے حقوق کے فروغ کے شعبے میں سرگرم کارکن العرولی کے اغوا اور مقدمے نے بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا اور ان کی رہائی کے لیے ہر سطح پر آواز بلند ہوتی رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ ستمبر میں کہا تھا کہ"صنعا میں قائم خصوصی فوجداری عدالت کے سامنے فاطمہ العرولی کا غیر منصفانہ ٹرائل حوثیوں کی انتقامی کارروائی اور عالمی قوانین اور معیار کو نظرانداز کرنے کا ثبوت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں