گریجویشن کی تقریب میں سعودی ڈاکٹر نے اپنی والدہ کو ’بُشت‘ کا تحفہ کیوں دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ایک ڈاکٹر نے اپنی گریجوایشن کی تقریب میں معاشرے کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہوئے تقویٰ کے انتہائی شاندار معنی کا اظہار کیا ہے۔ اس نے اپنی والدہ کو ’بشت‘ کو بطور تحفہ پیش کیا۔ ماں کو مملکت کی روایتی پوشاک تحفے میں دینے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر مثبت رد عمل سامنے آیا ہے۔

ڈاکٹر ماجد العمری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو ان کی محبت، نیکی اور وفاداری کے اظہار کے طور پر بشت دینا چاہتے تھے۔ اس نے کہا کہ میں سعودی بورڈ سے گریجویشن کرنے اور دانتوں کی جڑوں کے شعبے میں ڈاکٹر بننے کے بعد اپنی ماں کو حقیر سا تحفہ دینا چاہتا تھا۔ اسے ’بشت‘ زیادہ بہتر تحفہ لگا۔

العمری نے مزید کہا کہ یہ تحفہ ماں کے لیے کم سے کم اظہار تشکر کا ایک ذریعہ ہے جس کی دعائیں میری کامیابی کا ذریعہ ثابت ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر ڈاکٹر العمری کو مبارک باد دینے والوں نے نہ صرف اسے ڈاکٹر بننے پر مبارک باد پیش کی بلکہ ماں کے ساتھ حسن سلوک کی بھی مبارک باد پیش کی۔

گذشتہ روز سعودی کمیشن برائے ہیلتھ اسپیشلٹیز کی جانب سے کنگ سعود یونیورسٹی کے اوول پارک اسٹیڈیم میں سعودی بورڈ کے پروگراموں اور ہیلتھ اکیڈمی کے سال 2023 کے پروگراموں میں 9,552 طلبا اور طالبات کی گریجوایشن کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔

خیال رہے کہ ’بشت‘ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی عرب ممالک میں ایک پوشاک ہے جسے عموما مرد استعمال کرتے ہیں۔

اسے’ ثوب‘ اور’ بشت‘ میں ملبوس شخص کے طور پر تصور کر سکتے ہیں۔ یہ لباس ’مشلح‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بشت، عرب دنیا میں ٹخنوں کی لمبائی تک کا کرتا مردوں کا ایک جبہ ہے جو ثوپ کے اوپر پہنا جاتا ہے۔

اس لباس کی رنگت عام طور پر سیاہ، بھوری، سرمئی، خاکستری یا سفید ہوتی ہے۔ یہ سب سے روایتی سعودی پہناوا ہے جسے امارت، دولت اور تقرب سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں