حماس کا حملہ ہولو کاسٹ جیسا حملہ تھا یا نہیں؟ اسرائیل میں بحث چھڑ گئی

سات اکتوبر کے واقعات کا ہولو کاسٹ سے کوئی مقابلہ نہیں؛ اسرائیلی تاریخ کے ماہرین کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل میں ہولو کاسٹ اور سات اکتوبر کے فلسطینی حملے کے درمیان تقابل کی بحث جاری ہے۔ بہت سارے اسرائیلی سات اکتوبر کے اسرائیل پر حملے کو بہت ہلا کر رکھ دینے والا اور صدمے میں مبتلا کر دینے والا ہولو کاسٹ جیسا حملہ قرار دیتے ہیں مگر قومی یادوں اور نسل کشی کے شعبے کے سربراہ اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

دانی دیان یروشلم میں قائم قومی یادگاری مرکز کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلا شبہ خوفناک تھا لیکن نازیوں کے اس حملے سے مختلف تھا جس میں لاکھوں (60 لاکھ) یہودی مارے گئے تھے۔

دیان نے واضح لفظوں میں کہا ' میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اس سات اکتوبر والے حملے کا ہولو کاسٹ کے ساتھ کوئی تقابل بنتا ہے۔ اگرچہ یہ مماثلت ہو سکتی ہے۔اس حملے میں حماس کی نیت بھی نسل کشی والی تھی۔ '

واضح رہے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں 1200 اسرائیلی ہلاک ہونے اور 240 کے یرغمال بنائے جانے کی اطلاع اب تک اسرائیلی تصدیق کے ساتھ ہے۔ اس کے مقابلے میں زیرہ محاصرہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے اب تک 14100 فلسطنی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں تقریباً 6000 فلسطینی بچے اور تقریباً 4000 فلسطینی عورتیں بھی شامل ہیں۔

غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری بھی ہوتی رہی ، ٹینکوں سے محاصرہ بھی کیا گیا اور پانی بجلی سے لے کر ادویات تک سب کچھ بند کر دیا گیا۔ لیکن اسرائیل میں کوئی بھی اس کو ذہن میں رکھنے کی بات نہیں کر رہا ہے۔

تاہم اسرائیل میں ہولو کاسٹ اور 1200 ہلاکتوں کا تقابل شد ومد سے جاری ہے۔ اسرائیل کے ایک سابق سفارت کار نے کہا 'سات اکتوبر کو کیے گئے جرائم کو نازیوں کے جرائم جیسا قرار دیا ہے۔ لیکن کہا ہے یہ 'شواہ' یعنی 'ہولو کاسٹ' کی طرح نہ تھے۔'

دیان نے 'ہولو کاسٹ' ایسی سنگینی کے دعووں کو رد کرتے ہوئے کہا ' وہ یہودی جس نے یہ کہانیاں سن رکھی ہیں کہ بچوں کو رونے کی اجازت تھی نہ چیخنے کی، خیالات کی یکسانیت واضح ہے کہ ہم سب نے اس پر سوچا ہے مگر آج کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی آج بے دفاع نہیں مارا گیا، ہماری ریاست نے بہت سخت جواب دیا ہے۔' ایسا جنگ عظیم دوم میں تو ہم نہ کر سکے تھے۔'

دیان نے مزید کہا ' اس کا ہولو کاسٹ کے ساتھ تقابل نہ کیا جائے ، اب ہمارے پاس ایک فوج ہے جو لڑ رہی ہے اور اس نے حماس کو قیمت چکانے پر مجبور کیا ہے۔'

خیال رہے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور دوسروں نے حماس کے حملے کو بار بار ہولو کاسٹ کے بعد بد ترین قرار دیا لیکن دیان کا کہنا ہے کہ ' ایسی کوئی مطابقت موجود نہیں ہے۔ '

اس سے پہلے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر گیلاد ایردان نے ایک پیلے رنگ کا ستارہ اپنے سینے پر لگایا اور اصرار کیا کہ اقوام متحدہ اگر حماس کی مذمت نہیں کرے گا تو وہ اسے فخریہ پہنیں رکھیں گے۔'

ایردان نے اس موقع پر کہا تھا کہ' آپ میں سے کئی لوگوں نے 80 برسوں میں کچھ نہیں سیکھا ہے۔ جیسا کہ میرے دادای دادا نے اور لاکھوں یہودیوں کے دادی دادا نے۔ اب میں اور میری ٹیم یہ پیلا ستارہ پہنے گی۔'

ایردان کے اس پیلے ستارے والے واقعے پر دیان نے عبرانی زبان میں ' ایکس ' پر لکھا تھا ' یہ ہولو کاسٹ کے متاثرین اور اسرائیلی ریاست دونوں کی توہین کرنے کے مترادف ہے کہ پیلا ستارہ پہنا جائے۔' واضح رہے پیلا ستارہ یہودیوں کی بے بسی اور لاچاری کو ظاہر کرتا ہے۔

ادھر دیان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کےاس بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ ' حماس کے حملے خلاء میں نہیں کیے گئے ہیں۔ ' دیان نے کہا میں نےسیکرٹری جنرل سے پوچھا ' کہ بچوں کے گلے کاٹنے ، اور میلے میں نوجوانوں کو قتل کرنے اور ان کی عصمت دری کرنے کا کوئی سیاق و سباق تھا ؟ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں