فلسطین اسرائیل تنازع

تربیت یافتہ فوجی، ہیلی کاپٹر،پرائیویٹ کمرے، قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں کیا کیا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

طویل انتظار کے بعد غزہ کی پٹی میں ایک بار پھر جنگ بندی کو ملتوی کردیا گیا ہے۔تاہم امکان ہے کہ کل جمعے سے غزہ میں حماس اور اسرائیل کے در میان جاری جنگ چند روز کے لیے بند ہوجائے اور دونوں طرف قیدیوں کی رہائی ممکن ہوسکے۔

اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ مطلوبہ شرائط کی تکمیل میں ناکامی سے متعلق وجوہات کی بناء پر کل جمعہ سے پہلے جنگ بندی نہیں ہو گی اور نہ ہی غزہ میں قیدیوں کی رہائی ہوگی۔

تل ابیب نے تصدیق کی کہ کل بروز جمعہ تفصیلات طے پاتے ہی جنگ بندی شروع ہو جائے گی۔

قیدیوں کے اس تبادلے کے کیا اقدامات ہیں اور یہ کیسے ہوگا؟

اسرائیلی، امریکی اور علاقائی حکام نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں قید 50 قیدیوں کی 150 فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہائی اور لڑائی روکنے کو حماس کی طرف سے اسرائیلی حکام کو پیش کردہ ناموں کی فہرست سے متعلق وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے میں شامل فریق معاہدے پر عمل درآمد کے پہلے دن کے لیے "حتمی لاجسٹک تفصیلات" تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس میں 4 دن کی مدت میں 50 قیدیوں کی رہائی کے لیے کہا گیا تھا۔

قیدیوں کے غزہ چھوڑنے کے طریقہ سے واقف ایک ذریعہ نے انکشاف کیا کہ پہلا تبادلہ اسرائیل کے وقت کے مطابق صبح 10 بجے ہوگا، جس میں 10 قیدیوں کی پہلی کھیپ کی رہائی ہوگی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ 10 قیدیوں کی کم از کم تعداد ہے جنہیں ہر روز رہا کیا جائے گا اور یہ تعداد تبدیل ہو سکتی ہے۔’سی این این‘ کے مطابق پہلا تبادلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سب سے اہم ہے کہ طریقہ کار پراور طے شدہ شرائط پر دونوں فریق عمل کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگلے دن ان کی رہائی سے پہلے ہر شام اسرائیل اور حماس ریڈ کراس کو ان قیدیوں کے ناموں کی فہرست سونپیں گے جنہیں رہا کیا جائے گا اور ریڈ کراس انہیں رفح لے جائے گی، جہاں خصوصی تربیت یافتہ اسرائیلی فوجیوں کا دستہ انہیں وصول کرے گا۔

یہ فوجی اس بات کی تصدیق کریں گے کہ رہا ہونے والے قیدی متوقع اور فہرست میں شامل افراد ہی ہیں۔

رہا ہونے والوں کی شناخت کی تصدیق ہونے تک قیدیوں کے اہل خانہ کو مطلع نہیں کیا جائے گا۔

اس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسرائیل کے متعدد نامزد ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کے لیے الگ کمرے مختص ہوں گے اور وہاں عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔ وہان ان کے اہل خانہ ان سے مل سکیں گے۔

ذریعے نے کہا کہ امید ہے کہ ریڈ کراس غزہ میں باقی قیدیوں کو وصول کرے گا اور انہیں معاہدے کے فریم ورک کے اندر طبی امداد فراہم کرے گا۔

جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس نے اس ہفتے کے شروع میں قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ متوقع 4 دن کی جنگ بندی میں 150 زیر حراست فلسطینیوں کے بدلے حماس نے 50 قیدیوں کی اسرائیل واپسی کا اعلان کیا ہے۔

معاہدے کے تحت فلسطینی دھڑوں کو قیدیوں کی ایک تفصیلی فہرست شام تک جمع کرانی ہوگی جہاں رہائی پانے والوں کو قطر اور اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا۔

اس کے بعد یہ فہرست اگلے دن وصول کرنے کے لیے ذمہ دار ریڈ کراس کے حوالے کی جانی ہے۔

ایک بار جب ریڈ کراس اور اسرائیل کی طرف سے تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر انہیں معائنے کے لیے اسرائیل کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ایک غیر مسبوق فوجی مہم شروع کی تھی جس کا آغاز 7 اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے کے بعد کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کشی میں اب تک 14,100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے جب کہ اکتیس ہزار سے زاید زخمی ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں