فلسطین اسرائیل تنازع

جمعہ سے پہلے کوئی جنگ بندی یا یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہوگی: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کے مکینوں کو جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز کا انتظار ہے مگر اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ "جمعہ سے پہلے" لڑائی ختم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوگی۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جمعرات کو فلسطینی تحریک حماس کے ساتھ لڑائی میں "کوئی وقفہ نہیں ہوگا"۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے بدھ کی شام کہا کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے کسی کو بھی جمعہ سے پہلے رہا نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے آج جمعرات کو توقع ہے کہ جنگ بندی کے نافذ العمل ہو گی اور رہائی کی پہلی کارروائی جمعرات سے شروع ہو گی۔

ہنیگبی نے اپنے تازہ ترین بیانات میں کہا کہ "ہمارے قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات مسلسل تیار ہو رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "رہائی فریقین کے درمیان اصل معاہدے کے مطابق شروع ہوگی جمعہ سے پہلے نہیں ہوگی "۔

ٹائمز آف اسرائیل نے بدھ کے روز قومی سلامتی کونسل کے سربراہ زاچی ہنیگبی کے حوالے سے بتایا کہ قیدیوں کی پہلی کھیپ کو جمعہ سے پہلے رہا نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل کل بدھ کو حماس کے رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی جمعرات کی صبح دس بجے شروع ہو گی اور غزہ کی پٹی میں مکمل جنگ بندی ہو گی۔ بعد ازاں ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے ایک پریس بیان میں اس کی تصدیق کی تھی.

اخبار نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا اور اسرائیلی فوج کے جنرل نتزان ایلون جو اس وقت معاہدے کی حتمی تفصیلات کے لیے قطر میں ہیں نے ان قیدیوں کے نام حاصل کیے ہیں جن کی رہائی کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل قیدیوں کو رہا کرنے سے پہلے ان کے نام شائع نہیں کرے گا تاکہ معاہدہ ٹوٹنے کی صورت میں ان کے اہل خانہ کے دلوں میں جھوٹی امیدیں نہ پھیلیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فریقین نے ابھی تک جنگ بندی کی دستاویز پر دستخط نہیں کیے ہیں، یہ مرحلہ اگلے 24 گھنٹوں میں مکمل ہونے کی امید ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیس‘ نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کو ملتوی کرنے کی وجہ کئی "تکنیکی مسائل" ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو ان قیدیوں کے ناموں کی فہرست موصول نہیں ہوئی جنہیں رہا کیا جائے گا۔

مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ التوا زیر حراست افراد کی رہائی کے تفصیلی منصوبے کو حتمی شکل دینے میں ناکامی کی وجہ سے ہوا۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جمعرات کو چار روزہ جنگ بندی شروع ہو جائے گی۔ آج جمعرات کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اور اسرائیل میں قید قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

اسرائیلی پریس نے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد دوپہر کو یرغمالیوں کی پہلی کھیپ کو رہا کرنے کے منصوبے کے بارے میں بات کی تھی۔

یہاں تک کہ اسرائیل میں سرکاری دفتر نے بدھ کی شام صحافیوں کو تل ابیب کے ایک میڈیا سینٹر میں آنے کی دعوت دی جو جمعرات کی سہ پہر سے شروع ہونے والے "یرغمالیوں کی واپسی" کے لیے وقف ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا جس کے دوران حماس غزہ میں قید 50 خواتین اور بچوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے 150 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں