حماس اور اسرائیل میں ممکنہ معاہدے کے تحت رہا ہونے والے فلسطینی کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ میں چار روزہ جنگ بندی کا معاہدہ اور اسرائیل کی طرف سے درجنوں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینیوں کی رہائی آخری لمحات میں اس وقت اچانک التوا کا شکار ہوگئی جب یہ اعلان کیا جا چکا تھا کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل جمعرات کو شروع ہوگا تاہم ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ یہ فیصلہ کل جمعہ تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی قیدیوں کی شناخت کے بارے میں بات ہو رہی ہےکہ اسرائیل ان کی رہائی کی تیاری کررہا ہے کیونکہ اسرائیلی حکومت نے کہا تھا کہ وہ 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گی تاہم ان کے بدلے غزہ سے حماس کی برف سے پچاس یرغمالیوں کو رہا کیا جائےگا۔

معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزارت انصاف نے رہائی کے لیے نامزد 300 قیدیوں کی فہرست شائع کی۔

اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے ڈائریکٹر زاچی ہنگبی نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ جنگ بندی کا وقت ابھی تک غیر یقینی ہے اور یرغمالیوں کی رہائی جمعہ سے پہلے شروع نہیں ہوگی۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم اس فہرست میں شامل فلسطینیوں اور ان کی رہائی کے امکان کے بارے میں یہی جانتے ہیں۔

قیدیوں کے تبادلے کی شرائط کیا ہیں؟

جنگ بندی کی بنیادی شرائط میں دونوں طرف سے قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ حماس پچاس قیدیوں کو رہا کرےگی اور روزانہ دس دس قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ رہائی پانے والے قیدیوں کی فہرست ممکنہ طور پر چھوٹے گروپوں میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے پاس جمع کی جائے گی۔

دوسری طرف اسرائیل 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ 300 قیدیوں کی فہرست میں سے ان افراد کا انتخاب کیسے کیا جائے گا؟۔

اگر حماس 50 سے زیادہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرتی ہے تو ممکن ہے کہ اسرائیل اس فہرست سے مزید قیدیوں کو رہا کرے گا۔ شاید اسی تناسب سے دیگر قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

اسرائیل نے یہ بھی کہا کہ حماس کی طرف سے رہا کیے گئے ہر 10 اضافی قیدیوں کے بدلے جنگ بندی کے اختتام تک ایک دن کی توسیع کی جائے گی۔

فلسطینی قیدیوں کی فہرست؟

فہرست میں شامل لوگوں کی اکثریت نوعمر بچوں پر مشتمل کی ہے جنہیں گذشتہ دو سالوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔

فہرست میں شامل کسی بھی شخص کی عمر 18 سال سے زیادہ نہیں ہے۔ فہرست میں سب سے کم عمر لڑکوں کی عمر 14 سال ہے۔

اس دوران ایک 14 سالہ قیدی کو پتھر پھینکنے اور دھماکہ خیز مواد بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

اس فہرست میں غزہ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد شامل ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے ہے، جہاں حالیہ برسوں میں آباد کاری میں توسیع کے دوران تشدد پھوٹ پڑا ہے۔

اس فہرست میں تقریباً 30 خواتین اورلڑکیاں شامل ہیں، جن میں نوعمروں سے لے کر 30 اور 50 کی دہائی کی خواتین تک شامل ہیں۔

فہرست میں سب سے معمرخاتون 59 سالہ حنان برغوثی ہیں جنہیں دہشت گردی کی حمایت کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے اس سال کے شروع میں ایک اسرائیلی چھاپے کے دوران رام اللہ کے قریب اس کے گھر سےگرفتار کیا گیا تھا۔

قیدیوں پر کیا الزامات ہیں؟

فہرست میں شامل افراد پر پتھراؤ سے لے کر قتل کی کوشش تک کے جرائم کا الزام ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ہر کیس کے بارے میں مزید معلومات نہیں ہیں کہ آیا ان پر کتنے سنگین الزامات ہیں۔

فہرست کے اندراجات میں الزامات کا مختصراً خلاصہ کیا گیا ہے اور فہرست میں شامل بہت سے لوگوں کو باضابطہ طور پر سزا نہیں دی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مقدمے میں نہیں لایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیل کے عدالتی نظام بالخصوص ملک کی فوجی عدالتوں میں مناسب عمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کسے رہا نہیں کرے گا؟

اسرائیلی حکومت نے قتل کے مرتکب فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم قتل کی کوشش کے الزام میں متعدد افراد شامل تھے۔

کچھ لوگوں کو فلسطینی دھڑوں جیسے حماس اوراسلامی جہاد کے ارکان کے طور پر درج کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس الحاق کا تعین کیسے کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک 14 سالہ لڑکا حماس کے رکن کے طور پر درج تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں