دمشق میں اسرائیلی بمباری، حزب اللہ کے دو ارکان جاں بحق

اسرائیلی بمباری کی وجہ سے دمشق اور حلب کے ہوائی اڈے ایک ماہ سے بند ہیں: سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ لبنانی حزب اللہ کے لیے کام کرنے والے دو ارکان اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ ان حملوں میں دمشق کے دیہی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ آبزرویٹری نے ایک بیان میں مزید کہا کہ لبنانی حزب اللہ کے ساتھ کام کرنے والے شامی قومیت کے دو ارکان دمشق کے دیہی علاقوں ’’ سیدہ زینب‘‘ اور ’’ بجدلیہ ریجن‘‘ میں ہونے والے حملوں کی زد میں آئے۔ مزید اموات کے متعلق بھی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل بدھ کی شام وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے دمشق شہر کے اطراف کچھ مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں "مالی نقصانات" ہوئے ہیں۔

شام کی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ بدھ دوپہر تقریباً 15:10 پر صیہونی دشمن نے مقبوضہ شامی گولان کی سمت سے دو میزائلوں سے فضائی حملہ کیا۔ دمشق کے اطراف بعض مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ شام کی فضائی دفاعی فورسز نے "جارحیت" کا جواب دیا اور ایک میزائل کو مار گرایا اور نقصانات صرف مادی نقصان تک محدود تھے۔

شام میں متحارب فریقوں کے درمیان مصالحت کے لیے روسی مرکز کے نائب سربراہ وادیم کولیٹ نے اعلان کیا ہے کہ 22 نومبر کی رات دمشق کے اطراف میں اسرائیلی میزائل حملے کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کولیٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے مقبوضہ گولان کی جانب سے پہاڑیوں میں دمشق گورنری میں بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات پر راکٹ لانچروں سے میزائل حملے کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں