فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ بندی کیوں ملتوی ہوئی؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کے ساتھ جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز کا انتظار کر رہے تھے مگر اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ جمعہ سے پہلے جنگ بندی نہیں ہو گی۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنگبی نے بدھ کی شام کہا کہ غزہ میں زیر حراست قیدیوں میں سے کسی کو بھی جمعہ سے پہلے رہا نہیں کیا جائے گا، جب کہ توقع ہے کہ جنگ بندی نافذ ہو جائے گی اور پہلی رہائی جمعرات سے شروع ہو گی۔ تاہم انہوں نے اس التوا کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

اسرائیلی، امریکی اور علاقائی حکام نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں قید 50 قیدیوں کے ساتھ 150 فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور لڑائی روکنے کا جو اعلان کیا گیا تھا وہ جمعہ تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کم از کم ایک دن کی یہ تاخیر ان ناموں کی فہرست سے منسلک ہے جو حماس نے اسرائیلی حکام کو پیش کی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ حماس نے زیادہ تر افراد کے نام، جنس اور قومیت فراہم کی تھی لیکن 50 یرغمالیوں میں سے کچھ کے بارے میں معلومات مکمل نہیں تھیں جس کی وجہ سے ان کی رہائی میں پیچیدگی اور تاخیر ہوئی۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے میں شامل فریق معاہدے پر عمل درآمد کے پہلے دن کے لیے "حتمی لاجسٹک تفصیلات" تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

تاہم اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے جمعرات کو بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے کل، جمعہ تک اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی۔

ذریعے نے مزید کہا کہ حماس نے جنگ بندی کا معاملہ دوبارہ اٹھایا اور ہر اس چیز کی وضاحت کی درخواست کی جس پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ معاہدے میں تمام تفصیلات کو شامل کیا گیا تھا۔ توقع ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں آنے والے چند گھنٹوں میں دور ہو جائیں گی۔

ذرائع نے اشارہ کیا کہ اسرائیل، حماس، مصری اور قطری ثالثوں اور امریکا کے سرکاری اعلانات کے باوجود ابھی تک معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ حماس نے آخری لمحات میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے میں ترمیم کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے شرائط پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے کہا کہ قطر نے انہیں بدھ کے روز مطلع کیا کہ حماس معاہدے کے مسودے میں تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے اور دوحہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔

ادھر قطری وزارت خارجہ نے آج جمعرات کو ایک بیان میں مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے منصوبے پر بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان محمد الانصاری نے بتایا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کی تاریخ کا اعلان آنے والے گھنٹوں میں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین مصر اور امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے تیزی سے آغاز کو یقینی بنانے اور معاہدے کے لیے فریقین کی وابستگی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر کام جاری ہے۔

درایں اثنا وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے نشاندہی کی کہ امریکا کی کوشش ہے کہ جنگ بندی کے اس موقعے سےفائدہ اٹھایا جائے اور یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے قیدی بہ حفاظت اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ جنگ بندی کی کوشش درست سمت میں آگے بڑح رہی ہے، امید ہے کہ جمعہ کی صبح سے اس پرعمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس نے اس ہفتے کے شروع میں قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ متوقع 4 دن کی جنگ بندی میں 150 زیر حراست فلسطینیوں کے بدلے حماس نے 50 قیدیوں کی اسرائیل واپسی کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے لیے جنگ بندی کے پیچھے مقاصد

معاہدے کے تحت فلسطینی دھڑوں کو قیدیوں کی ایک تفصیلی فہرست شام تک جمع کرانی ہوگی جہاں رہائی پانے والوں کو قطر اور اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا۔

اس کے بعد یہ فہرست اگلے دن وصول کرنے کے لیے ذمہ دار ریڈ کراس کے حوالے کی جانی ہے۔

ایک بار جب ریڈ کراس اور اسرائیل کی طرف سے تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر انہیں معائنے کے لیے اسرائیل کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ایک غیر مسبوق فوجی مہم شروع کی تھی جس کا آغاز 7 اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے کے بعد کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کشی میں اب تک 14,100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے جب کہ اکتیس ہزار سے زاید زخمی ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں