سعودی عرب تیل میں رضاکارانہ کمی کو جون 2024 تک بڑھا دے گا: مورگن اسٹینلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے کثیر القومی سرمایہ کاری بنک اور مالیاتی سروسز کمپنی ’مورگن اسٹینلے‘ نے توقع ظاپر کی ہے کہ برینٹ کروڈ کی قیمت 85 ڈالر کے قریب کی سطح پر برقرار رہے گی۔ بنک نے کہا کہ موجودہ تخمینوں کے مطابق OPEC+ تیل کی پیداوار کو روکنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور اس سے تیل کے ذخائر کو موجودہ سطح پر استحکام ملے گا۔

بینک نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں اوپیک کے مزید تیل کو جذب کرنے کی زیادہ صلاحیت نہیں ہے۔ توقع ہے کہ اگلے سال اس کے تیل کی طلب 28.3 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی۔

پیداواری پالیسی پر OPEC+ کا اجلاس 30 نومبر تک ملتوی کر دیا گیا۔

مورگن اسٹینلے کا خیال ہے کہ سعودی عرب رضاکارانہ طور پر تیل کی کٹوتی کو اگلے سال کی دوسری سہ ماہی کے آخر تک بڑھا دے گا تاہم اس کی پیداوار دوسری ششماہی کے دوران بتدریج بڑھے گی۔

کل بدھ کو پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ "OPEC+" اتحاد کا وزارتی اجلاس 30 نومبر تک ملتوی کر دیا گیا جب کہ یہ 26 نومبر کو ہونا تھا، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر فی بیرل کمی ہوئی۔

خام تیل کی قیمت ستمبر میں اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 18 فیصد گر کر تقریباً 80 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ تاہم ایسا نہیں کہ پیداوار میں کمی مارکیٹوں میں قیمتوں کو سخت کرنے کا باعث بنے گی۔

OPEC+ کے اجلاسوں کی نئی تاریخ دبئی میں کلائمیٹ سمٹ (COP28) کی تاریخوں کے قریب قریب ہے۔

گولڈمین سیکس نے توقع ظاہر کی تھی کہ تیل کی پیداوار میں گہری کٹوتیاں زیرغور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں