فلسطین اسرائیل تنازع

جمعرات کے روز حزب اللہ کے اسرائیل کے خلاف حملے تیز ہو گئے

ایرانی وزیر خارجہ اور حزب اللہ سربراہ نے خطے کی صورت حال کا جائزہ بھی لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے جمعرات کے روز اسرائیل پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔ یہ شدت ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی جب دو روز قبل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں حزب اللہ ملیشیا کے سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ان سات ہلاک شدگان میں حزب اللہ کی ایلیٹ یونٹ کے دو رہنما اور پارلیمنٹ کے ایک رکن کا بیٹا بھی شامل ہے۔

حزب اللہ کی طرف سے جمعرات کے روز اسرائیل پر حملوں میں لائی گئی شدت کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور حسن نصراللہ کی ملاقات بھی ہے۔ حزب اللہ کے مطابق ایرانی وزیر اور حسن نصراللہ نے خطے میں جاری صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر کشدگی میں مزید تیزی آ رہی ہے۔

واضح رہے سات اکتوبر سے مسلسل اسرائیلی اور لبنانی سرحد پر کشیدگی جاری ہے اور دونوں طرف سے حملے جاری ہیں۔ اب تک اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں 109 افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے، تاہم ان میں حزب اللہ کے وابستگان اور لبنانی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہے۔

حزب اللہ اور لبنان کے جانی نقصان کے مقابلے میں اسرائیل کے صرف 9 لوگ مارے گئے ہیں، ان میں 6 فوجی اور 3 غیر فوجی شامل بتائے گئے ہیں۔

حزب اللہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس کی طرف سے 20 سے زیادہ اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کئی فوجی ہلاک کر دیے ہیں۔

حزب اللہ کے مطابق اس نے اپنے ایک حملے میں ایک اسرائیلی فوجی اڈے پر 48 کاتیوشا راکٹ داغے ہیں۔ اسرائیل کا یہ فوجی اڈا عین زیتم میں شمالی اسرائیل کے قصبے سفید میں ہے، لبنانی سرحد سے اس کی دوری 10 کلو میٹر بتائی گئی ہے۔

اس راکٹ حملے میں حزب اللہ نے اپنے پاس موجود سب سے بڑے راکٹ برقان کو بھی اسرائیلی ہدف پر داغنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اسرائیلی نقصان کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے ان حملوں کے جواب میں اپنے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حزب اللہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیلی بیان کے مطابق اس نے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر پر حملہ کیا ہے۔

لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے لبنان کے جنوب میں تازہ اسرائیلی جوابی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بدھ کے روز خبردار کیا تھا کہ اسرائیل حماس جنگ پھیل سکتی ہے۔

انہوں نے جمعرات کے روز لبنان میں حسن نصراللہ کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ جاری صورت حال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں