جنگ بندی : غزہ کے بے گھر فلسطینیوں نے 'حق واپسی' کا استعمال شروع کر دیا

ہزاروں فلسطینی گھروں کو واپس لوٹنے کے لیے قافلوں کی صورت چل پڑے ۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

چھیالیس دنوں میں اسرائیلی بمباری سے بے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں نے جنگ بندی شروع ہوتے ہی اپنے بچے کھچے اور ٹوٹے پھوٹے گھروں کی طرف واپسی شروع کر دی۔

اسرائیلی فوج نے ان گھروں کو واپس آنے والے فلسطینیوں کو روکنے کے لیے کئی قسم کے انتباہ جاری کیے مگر گھروں کی طرف ' حق واپسی' کے ساتھ جڑے ہوئے فلسطینیوں نے اپنے گھروں کو لوٹنے کو 'فرض واپسی' کے طور پر لے لیا ہے۔

دن بھر بچوں اور تھوڑے بہت سامان کے ساتھ نقل مکانی کرنے والے فلسطینی واپس اپنے گھروں کی طرف پیدل رواں دواں رہے۔ ان میں سے کئی کو گدھا گاڑیوں پر کئی کو کاروں اور ان کی چھتوں پر واپس گھروں کی طرف جاتے دیکھا گیا۔

کئی جگہوں پرحق واپسی کو استعمال کرنے والوں کے اژدھام میں گاڑیوں کے ہارنوں کی آوازیں بھی شامل ہو گئیں۔ گویا فلسطینی ملبے کے ڈھیروں کے بیچوں بیچ اپنے گھروں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ہارن بجاتی گاڑیاں اور ' حق واپسی' کے جذبے سے سرشار فلسطینی ایک تاریخ لکھ رہے ہیں۔

جمعہ کی صبح خان یونس اور جبالیا میں بھی بمباری کا شور اور تباہی کا زور نہیں تھا۔

اس جنگ بندی کے شروع ہوتے ہی 'حق واپسی' پر یقین رکھنے والی حیات المعمر بھی تھیں جو دوسروں کے ساتھ مل کر جنگ بندی کا جلد سے جلد فائدہ اٹھا کر اپنے گھر کی طرف جارہی تھیں ۔ ان کے قدم تیز تھے۔

وہ اپنے گھر جا رہی تھیں۔ پچاس سالہ حیات المعمر نے کہا ' میں اپنے گھر جارہی ہوں۔' اسے بمباری کے دنوں میں ایک قریبی سکول میں پناہ لینا پڑی تھی۔ ہم موت ، تباہی سے بھاگ کر گئے تھے۔ اب ہم واپس آرہے ہیں۔ '

لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ انہوں نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ کیوں ہم پر بمباری کی انتہا کر دی، سب کچھ تباہ کرنے سے انہیں کیا مل گیا؟

تقریباً ڈیڑھ ماہ سے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے غزہ کے رہنے والوں کی زندگی غیر معمولی صورت حال سے دوچار ہے۔ اسرائیل اسی جوابی بمباری کا نام دینے کی کوشش کرتا ہے مگر دنیا اور دنیا کے باضمیر لوگ اس کا یہ دعویٰ کم ہی مانتے ہیں۔

اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اب تک 15000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 24 لاکھ کی آبادی میں سے 17 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے رہنے والوں میں سے نصف آبادی کے گھر اور مکان تباہ ہو چکے ہیں۔

جنگ ختم نہیں ہوئی !

ایک اور فلسطینی گھر کو واپس جاتے ہوئے اپنے گدھے کو چھانٹے سے تیز کرنے کی کوشش میں تھا۔ وہ گدھا گاڑی پر واپس آرہے اور اس کا گدھا گاڑی کو کھینچ رہا تھا۔ لیکن یقیناً ' حق واپسی ' کا معاملہ کسی گدھے کو کیونکر سمجھ میں آسکتا ہے اس لیے فلسطینی شہری کو چھانٹا استعمال کرنا پڑا۔

گدھا گاڑی والا 30 سالہ احمد فیاض ہے۔ اس کے ساتھ اس کے کنبے کے 70 لوگ بھی واپس آرہے ہیں۔ کنبے کے سارے لوگوں نے ایک سکول میں قائم کیے گئے پناہ گزین کیمپ میں پناہ لی تھی۔

ایک بوڑھا شہری کندھوں پر اپنا بیگ اٹھائے ہوئے واپس آرہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ' میں اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے اپنے آپ کو زیادہ محفوظ تصور کرتا ہوں۔' ان نے بتایا اس کا گھر اسرائیلی سرحد کے قریب ہے۔

اس بوڑھے فلسطینی کے ارد گرد ایک ہجوم ہے۔ اس ہجوم میں مرد بھی ہیں ، عورتیں بھی اور بچے بھی۔ یہ لوگ پیدل چل چل کر آبلہ پا ہیں۔ مگر ہمت میں کمی نہیں۔ ان میں گدھا گاڑیوں پر آنے والے بھی ہیں۔ یہ کچھ دن پہلے ہی نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

ایک فلسطینی خاتون نے اپنی بلی کو بھی اپنے بازووں پر اٹھا رکھا تھا۔ وہ غزہ کی گلیوں میں چل رہی تھی۔ غزہ کی آبادی کا بڑا حصہ اسرائیلی بمباری سے ملبے کے ڈھیر کا منظر پش کر رہا ہے۔ لیکن ' حق واپسی' والے ان فلسطینیوں کا عزم و ارادہ کہاں کوئی ڈھیر کر سکا ؟

اب غزہ میں پانی نہیں، بجلی نہیں ، خوارک نہیں ایندھن نہیں مگر غزہ میں واپس اپنے گھروں کا رخ کرنے والوں کے پاس امید ہے۔

اسرائیلی بمباری کے ساتھ ساتھ 'لیف لیٹس' کی بارش ہو رہی تھی کہ سب لوگ غزہ سے نکل جائیں۔ گھر چھوڑ جائیں اور بمباری سے بچ جائیں۔ یہ بھی انتباہ اسرائیلی جہازوں سے پھینکی گئی پرچیوں کے ذریعے کیا جاتا رہا کہ فلسطینی شمالی غزہ میں واپس نہ آئیں۔ مگر واپسی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔

لوگوں کو علم ہے کہ جنگ ابھی جاری ہے اور انہیں واپسی سے روکا بھی جارہا ہے۔ مگر وہ آرہے ہیں واپس اپنے گھروں کو۔

خالد الحبیبی نے جنگ کے شروع میں ہی شمالی غزہ میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ وہ رفح کی طرف چلے گئے تھے، مگر کہتے ہیں' میری خواہش ہے کہ میں اپنے گھر واپس جا سکوں اور اپنے گھر کو دیکھ سکوں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں