فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کی شکست سے پہلے جنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں: اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ کی پٹی میں متوقع جنگ بندی کے موقع پر اسرائیلی وزیر اور جنگی کونسل کے رکن گیڈون ساعر نے زور دے کر کہا ہے کہ "حماس کی شکست سے پہلے جنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے"۔

ساعر نے جمعرات کی شام زوم کے ذریعے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "یہ معاہدہ طے پانے کے بعد بھی جنگ جاری رہے گی۔ حماس کی شکست سے پہلے جنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حماس کے اقتدار میں ہونے پر جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے اور جب حماس کے پاس اسرائیل کو دھمکی دینے کی صلاحیت ہے تو جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ کابینہ کا فیصلہ ہے اور ہم اس پر عمل کریں گے"۔

جہاں تک شمالی محاذ کا تعلق ہے تو انہوں نے مزید کہا کہ"ہمیں شمال میں بھی تبدیلی کے لیے حالات پیدا کرنے چاہییں۔ اگلا دن پہلے والے دن جیسا نہیں لگ سکتا۔ ہمیں لبنانی سرحد کے ساتھ ایک مختلف حقیقت کو ڈیزائن کرنا ہو گا۔ لبنان کی طرف سے ہماری بستیوں کو درپیش خطرات کو ختم کرنا ہوگا‘‘۔

انسانی ہمدردی کے تحت جنگ بندی

اسرائیل اور حماس کے درمیان چار دنوں کے لیے جنگ بندی جمعہ کے روز غزہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے سے شروع ہو جائے گی۔ جبکہ اسرائیلی قیدیوں کی پہلی کھیپ شام چار بجے غزہ سے رہائی پا سکے گی۔ اس امر کا اعلان قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے جمعرات کی شام کیا ہے۔

قطری اعلان کے مطابق جنگ بندی جامع ہو گی اور شمالی غزہ کے ساتھ ساتھ جنوبی غزہ میں برابر نافذ العمل ہو گی۔ اس دوران غزہ کے لیے امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

قطری ترجمان کے مطابق اسرائیلی یرغمالی چار بجے شام رہا کیے جائیں اور یہ توقع ہے کہ اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیی بھی ڈیل کے حصے کے طور پر رہا ہوں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ 'انہیں حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار کی گئی فہرست موصول ہو گئی ہے۔ جن کی رہائی جمعہ کے روز جنگ بندی کے بعد ہو گی۔'

دوسری جانب حماس نے بھی اپنے ٹیلی گرام چینل سے اعلان کیا ہے کہ 'اس کی فوج کی طرف سے تمام دشمنی روک دی جائے گی۔

"4 دن میں 50 یرغمالیوں کی رہائی"

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ "یہ واضح ہے کہ ہر روز مزید متعدد یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اور چار دن میں مجموعی طور پر 50 یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ان چار دنوں میں بقیہ یرغمالیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جائیں گی تاکہ بڑی تعداد میں یرغمالیوں کی رہائی کے امکان پر غور کیا جا سکے اور اس طرح اس جنگ بندی میں توسیع کی جا سکے"۔

"لسٹ کی تفصیلات چیک کریں"

فلسطینی تنظیم حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ غزہ میں اسرائیلی افواج کے ساتھ جنگ بندی ’جمعہ کی صبح سات بجے شروع ہو گی۔‘

فرانسیس خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق: ’جنگ بندی کا اطلاق چار دنوں کے لیے ہو گا، جس کا آغاز جمعہ کی صبح سے ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ قسام بریگیڈز اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ ساتھ صہیونی دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی پوری مدت میں تمام فوجی کارروائیاں بند ہو جائیں گی۔‘

ونگ کی جانب سے کہا گیا کہ چار دنوں کے دوران 50 یرغمالیوں بشمول خواتین اور 18 سال یا اس سے کم عمر کے مردوں کو رہا کیا جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کے بدلے تین فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے اعلان کیا کہ "جنگ بندی جمعہ کی صبح ٹھیک سات بجے نافذ ہو جائے گی۔ اس کا اطلاق 4 دن کے لیے ہو گا۔ جمعہ کی صبح سے شروع ہونے والی جنگ بندی میں دونوں طرف سے فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران 50 اسرائیلی قیدیوں، خواتین اور 19 سال سے کم عمر کے بچوں کو رہا کیا جائے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیل 150 فلسطینی قیدیوں، خواتین اور بچوں کو رہا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں