سیز فائر خاتمے کے بعد دو ماہ تک لڑائی جاری رہ سکتی: اسرائیلی وزیر دفاع

حماس جنگ بندی کا فائدہ اٹھانا چاہتی، ہم شفا ہسپتال میں کام جاری رکھیں گے: اسرائیلی فوجی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں متوقع جنگ بندی کے موقع پر جمعرات کو اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلانٹ نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں لڑائی مزید دو ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ ہماری ترجیح حماس کے سیاسی اور میدانی رہنماؤں کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی بحری افواج سے متعلق بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بھی لڑائی شدت سے جاری رہے گی۔ ہم مزید مغوی افراد کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ حماس جنگ بندی کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ تمام فوجی یونٹ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم جنگ بندی کے خاتمے کے بعد شفا ہسپتال میں کام جاری رکھیں گے اور حماس کی سرنگوں کو نشانہ بنائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا شمالی غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنا پہلا مرحلہ ہے اور ہم اگلے مراحل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج شمال میں زیادہ سے زیادہ تیار اور چوکس ہے اور آگ کے تمام ذرائع کا جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی ریاست خودمختار ہے لیکن اس پر حزب اللہ کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

یہ بیانات اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے موقع پر سامنے آئے ہیں۔ چار روز کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ پہلے جمعرات کو شروع ہونا تھا تاہم بعد میں ایک دن کی تاخیر سے یہ آج جمعہ کی صبح 7 بجے شروع ہوگا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اس کے پاس یرغمالیوں کے ناموں کی "ابتدائی فہرست" موجود ہے اور وہ ان کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں ہونے والی بات چیت سے واقف ایک فلسطینی ذریعے نے جمعرات کو ایجنسی فرانس پریس کو بتایا کہ جنگ بندی کے نفاذ میں تاخیر کا تعلق اسرائیلی قیدیوں کے ناموں اور حوالے کرنے کے طریقہ کار سے متعلق آخری لمحات کی تفصیلات سے ہے۔ تجویز یہ تھی کہ انہیں ریڈ کراس کے حوالے کیا جائے اور پھر انہیں مصر منتقل کر کے اسرائیل کے حوالے کیا جائے۔

معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ جنوبی اور شمالی غزہ کی پٹی پر چاروں دنوں کے لیے دن میں چھ گھنٹے کے لیے پروازیں معطل کر دے گی اور انسانی امداد کے قافلے اور ایندھن کی سپلائی محصور پٹی میں داخل ہو گی۔

حماس کے مطابق 150 فلسطینی قیدیوں اور خواتین اور 19 سال سے کم عمر کے بچوں کو رہا کیا جائے گا۔

حماس نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی بمباری سے مرنے والوں کی تعداد 14,854 ہو گئی ہے۔ شہدا میں 6,150 بچے اور 4,000 سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ 36 ہزار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں