فلسطین اسرائیل تنازع

یہودی ربی اور یہودی ادارے پوپ سے بھی ناراض ہو گئے

اسرائیل کے لیے دہشت گردی کا لفظ کیوں بولا؟ پوپ سے وضاحت کا مطالبہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کے لیے دہشت گردی کا لفظ کیوں استعمال کیا۔ یہودیوں مسیحی پوپ فرانسس سے بھی وضاحت طلب کر لی۔ اسرائیل حماس جنگ کے دوران عالمی مرتبے پر فائز قائدین میں سے پوپ دوسری بڑی شخصیت ہیں جن کے بارے میں اسرائیل اور اس کے حامی یہودیوں نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔

اس سے پہلے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بھی اسی طرح کے یہودی غم و غصے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اسرائیل اور اس کے حامی یہودی عالمی قائدین سے ' انوکھے لاڈلے پن ' کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کے بارے میں عملاً زباں بند رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

پوپ فرانسس نے ویٹیکن سٹی میں اسرائیل کے ان خاندانوں سے ملاقات کر کے ان کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کی تھی جن کے عزیز غزہ میں یرغمالی بنائے گئے ہیں۔ اس موقع پر پوپ نے امن کے لیے دعا بھی کی۔

اسی روز پوپ نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے شہید ہونےوالے ہزاروں فلسطینیوں میں سے کچھ کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی جو اسرائیلی بمباری سے غزہ میں تباہی کا ذکر رہے تھے۔

واضح رہے سات اکتوبر سے شروع اس جنگ میں اب تک صرف غزہ میں 14 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں چھ ہزار سے زائد فلسطینی بچے اور چار ہزار سے زائد فلسطینی عورتیں بھی شامل ہیں۔

پوپ نے فریقین کے خاندانوں کو الگ الگ ملاقات کے لیے 23 نومبر کا وقت دیا تھا۔ تاہم اسرائیلی وفود کی آمد کے بعد مختلف ملکوں میں موجود یہودی اداروں نے پوپ کر اتراضات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔

پوپ پر یہودیوں اور ان کے ربیوں نے اعتراض کیا ہے کہ پوپ نے اسرائیل حماس جنگ کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔' اس کا مطلب ہے کہ اسرائیل دہشت گردہے۔ پوپ نے ان ملاقاتوں میں فریقین کو جنگی جذبے میں مزید آگے نہ جانے کا مشورہ دیا تھا کہ اس جذبے کے نتیجہ ہر ایک کو قتل کرنے تک جاتا ہے۔

اٹلی میں قائم یہودی ربیوں کی اسمبلی (اے آر آئی ) نے پوپ پر الزام لگایا ہے ' پوپ نے سر عام دونوں اطراف کو دہشت گردی کے مرتکب کہا ہے۔'

اٹلی کے ان ربیوں کے مطابق 'اس طرح چرچ کے رہنماوں نے حماس کے سات اکتوبر کے حملے کی مذمت نہ کر کے اسرائیل اور حماس کو ایک ہی طیارے پر سوار کرنے کی کوشش کی ہے۔'

دوسری جانب جن فلسطینیوں نے پوپ سے ملاقات کی ہے انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے ' پوپ نے حماس کے حملے کی مذمت کی اور یہ بھی کہا ایک کی دہشت گردی دوسرے کی دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتی ہے۔'

ان فلسطینیوں کے مطابق پوپ نے غزہ میں جاری صورت حال کے لیے 'نسل کشی' کا لفظ استعمال کیا تھا۔

ادھر امریکی یہودی کمیٹی نے پوپ کی یرغمالیوں کے اہل خانہ سے ملاقات اور یرغمالیوں کی رہائی کا ایک بار پھر مطالبہ کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

تاہم اگلے ہی روز امریکی یہودی کمیٹی نے ویٹکین سے وضاحت طلب کر لی ہے کہ ' پوپ نے اسرائیل حماس جنگ کو جنگ سے کچھ بڑھ کر کہہ کر دہشت گردی کا نام کیوں دیا۔ کیا کا قصاب پن ،اغوا کرنےکی دہشت گردی ہو اور اسرائیل اپنا دفاع بھی نہ کرنا بھی دہشت گردی ہو گیا، ویٹیکن اس بارے میں براہ کرم وضاحت کرے۔'

امریکہ میں قائم یہودی ادارے ' دی سائمن ونستھل سنٹر نے پوپ فرانسس سے کہا ہے ' یہ نہ بھولیں جو بھی نقصان ہوا یا مصیبت بنی ہے یہ سب حماس کے ناقابل برداشت عمل کی وجہ سے ہوا۔'

مگر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گویترس اس بارے میں اسرائیل کو یہ کہہ کر ناراض کر چکے ہیں 'حماس نے جو کچھ کیا یہ خلاء میں نہیں کیا ہے۔' سیکرٹری جنرل کے اس نپے تلے موقف کے بعد ہی اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے ان کے استعفے کا مطالبہ کر دیا تھا۔

اٹلی سے تعلق رکھنے والے ربیوں نے مسیحیوں اور یہودیوں کے درمیان عشروں سے جاری مذاکرات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب یہودیوں پر حملہ ہوا تو ویٹیکن نے قلابازیوں والی سفارتکاری کا انداز اختیار کر لیا۔

پوپ کے ایک دیرینہ ساتھی نے پوپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے' پوپ نے کسی کو ایک جہاز پر نہیں بٹھایا البتہ پوپ اسرائیلی حکومت کے پس پردہ محرکات کو سمجھتے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں