اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے مغویوں کی رہائی کی دوسرے روز کی فہرست کا جائزہ لیا

حماس کے خاتمے کا اسرائیل ہدف جائز مگر مشکل ہے: صدر جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے حماس کی طرف سے دوسرے روز ممکنہ رہائی پانے والے مغویوں کی فہرست کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ حماس کی طرف سے یہ فہرست ہفتے کے روز بھیجی گئی ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس بارے میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں سے متعلق حکام حماس کی بھیجی ہوئی فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ فہرست دوسرے روز رہائی پانے والے اسرائیل مغویوں کے حوالے سے ہے۔

جنگ بندی کے پہلے روز 24 مغویوں کو حماس نے رہا کیا تھا۔ ان میں 13 اسرائیلی مغوی تھے۔ انہیں غزہ سے رہائی کے بعد رفح راہداری پر مصری حکام کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے ان کی رہائی کا عمل مکمل کرتے ہوئے انہیں اسرائیلی حکام کے سپرد کر دیا۔ اس موقع پر صلیب احمر کے حکام اور اہلکار بھی موجود رہے۔

اسرائیل پہنچنے کے بعد ان رہا کردہ مغویوں کو طبی معائنے سے گزارا گیا اور پھر انہیں ان کے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔

یاد رہے فریقین نے اس چار روزہ جنگ کے بعد پھر سے جنگ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اس جنگی وقفے میں توسیع ہو سکتی ہے۔

جوبائیڈن نے کہا 'یہ ایک حقیقی موقع ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کر دی جائے اور غزہ میں امدادی کارروائیوں کا کام جاری رکھا جائے۔'

تاہم صدر جوبائیڈن نے اس مفروضاتی سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی کہ جنگ کس قدر طویل ہو سکتی ہے۔ البتہ حماس کے خاتمے کے لیے اسرائیلی ہدف کو جائز قرار دیا مگر ساتھ ہی کہا یہ ایک مشکل ہدف ہے۔

دوسری جانب فلسطینی ہلال احمر کے ادارے نے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز رفح راہداری سے 196 ٹرک امدادی سامان کے ساتھ غزہ میں گئے تھے۔ یہ 21 اکتوبر سے اب تک کا سب سے بڑا امدادی قافلہ تھا۔

واضح رہے 21 اکتوبر سے اب تک مجموعی طور پر 1759 ٹرک امدادی سامان کے ساتھ غزہ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں