سات سال بعد اسرائیلی قید سے رہائی پر فلسطینی خاتون کے خاندان سے ملاقات پر جذبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد جمعے کی شام سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں قیدی ملک سلیمان کو یروشلم کے جنوب مشرق میں بیت الصفافا کے قصبے میں اپنے گھر پر اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ملک سلیمان کی اپنے خاندان سے ملاقات کے جذباتی مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ملک کو 2016ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ 16 سال کی تھیں۔ وہ یروشلم کے پرانے شہر میں دمشق گیٹ کے علاقے میں تھیں۔

اس کے بعد ایک اسرائیلی عدالت نے اسے "مزاحمت کی کارروائیوں" میں ملوث ہونے کا قصور وار ٹھہرایا اور اسے 10 سال قید کی سزا سنائی۔ اپیل کے بعد سزا کم کر کے نو سال کر دی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ حماس نے اس سے قبل جمعہ کو غزہ میں قید 13 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا، جب کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے دن اپنی جیلوں میں بند 39 فلسطینیوں کو رہا کیا تھا۔ جنگ بندی کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج نے حملے بند کیے اور مصر کے راستے امدادی سامان کے ٹرک غزہ داخل کیے گئے۔

13 اسرائیلیوں کے علاوہ حماس نے 10 تھائی باشندوں اور ایک فلپائنی کو رہا کیا۔ یہ رہائی قطر، امریکا اور مصر کی ثالثی کی کوششوں سے عمل میں لائی گئی۔

دوسری طرف اسرائیل نے39 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا۔ ان میں 15 لڑکے اور 24 خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے 28 کو مغربی کنارے کے بیتونیا چوکی سے رہا کیا گیا جب کہ 11 کو مشرقی یروشلم میں رہائی کے لیے منتقل کیا گیا۔

4 دن کی جنگ بندی

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو 4 روزہ جنگ بندی شروع ہوئی تھی۔

قطر مرکزی ثالث، مصر اور امریکا کے ساتھ چار روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاہم قیدیوں کی رہائی جاری رہی تو جنگ بندی میں توسیع ہوسکتی ہے۔ چار روزہ جنگ بندی میں 50 یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے اسرائیل میں قید 150 فلسطینیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں