عالمی ادارہ صحت کو 'الشفاء ہسپتال' غزہ کے ڈائریکٹر اور ساتھیوں کی گرفتاری پر تشویش

دوران حراس اسرائیلی فوج ان کے قانونی و انسانی حقوق کا خیال رکھے: 'ڈبلیو ایچ او'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارہ صحت نے 'الشفاء ہسپتال' کے ڈائریکٹر اور ان کے ساتھ دیگر پانچ ہسپتال کے طبی عملے کے ارکان کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ 'الشفاء ہسپتال' کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ اور ان کے ساتھی عملے کے ارکان کو اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اٹھا لیا تھا۔

عالمی ادارے نے جمعہ کے روز ان تمام میڈیکل پروفیشنلز کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا 'یہ سب اقوام متحدہ کے مشن کے ساتھ مل کر مریضوں کو ہسپتال سے نکالنے میں مدد دے رہے تھے۔ ان میں تین افراد کا تعلق صلیب احمر کے ساتھ ہے اور تین غزہ کی وزارت صحت سے متعلق تھے۔

'ڈبلیو ایچ او' کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال اور ان کے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے مگر یہ سب اقوام متحدہ کے مشنوں سے جڑے ہوئے تھے۔

تاہم اسی بیان میں کہا گیا ہے کہ 'بدھ کے روز گرفتار کیے گئے 6 میں سے دو افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ 'الشفا ہسپتال' کے سربراہ سمیت باقی چار زیر حراست لیے گئے لوگ کس حال میں ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ ان چاروں کو دوران حراست مکمل قانونی اور بنیادی حقوق میسر رہنے چاہییں۔

واضح رہے ڈائریکٹر 'الشفاء ہسپتال' محمد ابو سلمیہ اس سے قبل بار بار بین الاقوامی میڈیا کو ہسپتال کی اندرونی صورت حال اور مریضوں کی مشکلات سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔

'الشفا ہسپتال' مسلسل اسرائیلی فوج کی بمباری اور محاصرے کی زد میں رہا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے بارے میں 'اپ ڈیٹ' کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں