ہم غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے پرعزم ہیں: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے جمعہ کی شام اعلان کیا کہ ان کا ملک حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔

ہاگری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جمعے کو رہا کیے گئے زیر حراست افراد کو ان کے اہل خانہ سے ملنے سے قبل ہیتزرم ایئر بیس منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔ ہم حماس کے ساتھ معاہدے کے پابند ہیں اور ہم اس کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے"۔

’حماس کو نیست ونابود کرکے رہیں گے‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک حماس کے خاتمے، قیدیوں کی واپسی اور سرحدوں کو محفوظ بنانے کے اپنے جنگی مشن کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی افواج حماس کے ساتھ چار روزہ جنگ بندی کا فائدہ اٹھا رہی ہیں تاکہ غزہ میں اپنے آپریشن کے اگلے مرحلے کی تیاری کے لیے کچھ یرغمالیوں کی واپسی کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے دنوں میں اسرائیلی فوج جنگ کے اگلے مراحل کے لیے اپنی تیاری مکمل کر لے گی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ "7 اکتوبر سے اب تک ہماری افواج کے 392 اہلکار مارے جا چکے ہیں۔"

جب کہ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی فوج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر محاذ پر تیار ہے۔

24 یرغمالیوں کے بدلے 39 فلسطینیوں کی رہائی

قابل ذکر ہے کہ حماس نے اس سے قبل جمعہ کو غزہ میں قید 13 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا، جب کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے دن اپنی جیلوں میں بند 39 فلسطینیوں کو رہا کیا تھا جس کے تحت غزہ میں امن اور اضافی امداد کے داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

13 اسرائیلیوں کے علاوہ حماس نے 10 تھائی باشندوں اور ایک فلپائنی کو رہا کیا، جو اس معاہدے میں ثالثی کرنے والے قطر کے مطابق، جنوبی اسرائیل پر گزشتہ ماہ شروع کیے گئے حملے کے بعد سے حراست میں لیے گئے تھے۔

اسرائیل نے 39 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا جن میں 15 لڑکے اور 24 خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے 28 کو مغربی کنارے کے بیتونیا میں رہا کیا گیا، جب کہ 11 کو مشرقی یروشلم میں رہائی کے لیے منتقل کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں