'مشکل دن آرہے ہیں، جب تک سارے اسرائیلی رہا نہیں ہوتے خوشی نہیں منائیں گے۔'

بیوی بچوں کی رہائی پر بھی اسرائیلی خوشی و غمی کے ملے جلے تاثرات رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کی قید سے ایک معاہدے کے بعد رہائی پانے والے اسرائیلی اور ان کے اہل خانہ خوش ہیں مگر اس خوشی کا جشن منانے کا نہیں سوچتے ہیں۔ اس امر کا اظہار ایک ایسے اسرائیلی شہری نے کیا جس کے بیوی بچوں کو جمعہ کے روز حماس سے رہائی ملی ہے اور وہ بھی اس پر خوش ہے۔

مگر اس کا کہنا ہے 'جب تک سارے اسرائیلی رہا نہیں ہو جاتے ہم جشن نہیں منائیں گے۔ 'حماس نے جنگ بندی کے پہلے روز کل 13 اسرائیلیوں کو رہا کیا تھا جن میں سے یہ سب سات اکتوبر سے حماس کی قید میں تھے۔

یونی اشعر تل ابیب کے نزدیک اپنے گھر میں تھا جب اس کی اس اہلیہ 34 سالہ دورون اشعر کاتز اور دو اور چار سال کی عمر دو بچوں کو حماس نے اٹھا لیا تھا۔

یہ 34 سالہ خاتون اپنے دونوں بچوں کے ساتھ اپنی امی سے ملنے گئی تھی۔ حماس کے حملے کے دوران اس کی 69 سالہ ماں ایرفات کاتز ہلاک ہو گئی۔

اشعر نے کہا 'میں خوش ہوں کہ میرے بچے واپس میرے پاس آگئے ہیں۔ ہمیں خوش ہونے کی اجازت بھی دے دی گئی اور آنسو بہانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔' یہ بات اشعر نے مغویوں کے خاندانوں کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہی ہے۔ یہ ویڈیو جمعہ کی شام جاری کی گئی۔

اس نے مزید کہا 'میں اس وقت تک خوشی نہیں مناؤں گا جب تک سارے اسرائیلی رہا ہو کر اپنے گھروں کو نہیں پہنچ جاتے۔'

دورون کا بھائی اور والدہ کا پارٹنر ابھی تک حماس کی قید میں ہیں۔ اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے اشعر نے کہا ' میں نے پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ میں اپنے خاندان کی خوفناک صدمے سے نکلنے میں مدد کروں گا اور نقصان سے جس سے ہمیں گذرنا پڑا ہے۔'

اس نے مزید کہا 'ہمارے لیے مشکل دن ابھی آگے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں