اسرائیلی خلاف ورزیوں سے جنگ بندی معاہدے کو خطرہ ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے دن حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے مشیر طاہر النونو نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی بہت سی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں کی بنا پر پورا معاہدہ خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ حماس نے یرغمالیوں کی رہائی موخر کرنے کا اعلان کردیا۔

طاہر النونو نے مزید کہا کہ اسرائیلی فریق نے غزہ کی پٹی میں امداد لے جانے والے ٹرکوں کے داخلے سے متعلق شرائط پر عمل نہیں کیا۔ شمالی غزہ کی پٹی تک امداد پہنچانے کا وعدہ ایفا نہیں کیا اور اس سے پورے معاہدے کو خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے جن معیارات پر اتفاق کیا گیا تھا ان پر عمل نہیں کیا۔ غزہ کی پٹی کے جنوب میں ایک اسرائیلی جاسوس طیارے کی پرواز دیکھی گئی ہے۔ غزہ کی پٹی میں ایک سے زیادہ مقامات پر گولیاں چلائی گئیں۔ جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

النونو نے کہا کہ حماس معاہدے کی شرائط کی نگرانی کر رہی ہے۔ اسرائیلی فریق اور اقوام متحدہ کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ کوئی بھی عذر ناقابل قبول ہے۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان اسامہ حمدان نے بھی کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا ہے اور تحریک نے ثالثوں کو اسرائیلی خلاف ورزیوں سے آگاہ کردیا ہے۔

حمدان نے ہفتے کے روز اپنی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ حماس اس جنگ بندی کے لیے اپنی وابستگی کی تصدیق کرتی ہے جسے مصر اور قطر نے سپانسر کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ سے اب تک مجموعی طور پر 340 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں اور ان میں سے 65 شمالی غزہ پہنچ چکے ہیں جو اسرائیل کی طرف سے رضامندی کے نصف سے بھی کم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں