اسرائیل: فوج 'توقف' کے اختتام پر حماس کے خلاف دوبارہ 'عزم کے ساتھ' جنگ شروع کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہالوی نے اتوار کو کہا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیلی فوج حماس کے خلاف جنگ کے لیے ایک "عزم کے ساتھ" واپس آئے گی۔

ہالوی نے ایک بیان میں کہا۔ "[اسرائیلی] فوج اور اس کے سپاہی [اسرائیلی فوج] کی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے ہمارے لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جانفشانی سے لڑتے ہیں۔ ہم نے اس وقفے کے دوران یرغمالی بچوں اور ماؤں کے پہلے گروپ کی رہائی کے لیے فریم ورک کے حالات پیدا کیے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا: "جب فریم ورک مکمل ہو جائے گا تو ہم یرغمالیوں کی مسلسل رہائی اور حماس کے مکمل خاتمے کے لیے عزم و ہمت کے ساتھ اپنی کارروائیوں پر واپس آ جائیں گے۔"

ہالوی نے اسرائیلی فوجی سپاہیوں اور کمانداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "میں نے زمین کے اوپر اور زیرِ زمین دونوں طرح کی طویل جنگ کے اختتام پر آپ میں سے کئی لوگوں سے ملاقات کی جنہیں پیچیدہ چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ہر معرکہ آرائی میں میں نے اس لمحے کی شدت، جنگی جذبہ اور جنگ کے تمام مقاصد کو حاصل کرنے کا عزم آپ کی آنکھوں میں جھلکتے دیکھا۔ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا: 'ہم اس وقت تک لڑنا چاہتے ہیں جب تک یرغمالیوں کو واپس نہ لے آئیں۔' اور ہم ایسا ہی کر رہے ہیں!"

ہالوی نے ہفتے کے روز اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ ایک بار حماس کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفہ ختم ہو جائے تو اسرائیلی فوج فوری طور پر غزہ کی پٹی پر حملے کے لیے واپس آجائے گی۔

جیسا کہ ٹائمز آف نے حوالہ دیا، ہالوی نے حماس کے زیرِ حراست یرغمالیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ "ہم تمام یرغمالیوں کی واپسی سے پہلے اس کوشش کو روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے، روکنا نہیں چاہتے اور روکنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کو واپس لانا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔"

اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ لڑائی میں اس وقفے کو اسرائیلی فوج "مطالعہ کرنے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر تیار کرنے اور تھوڑا آرام کرنے کے لیے" استعمال کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا۔ "اور ہم جنگ بندی کے اختتام پر فوری طور پر غزہ پر حملہ اور جنگی تدابیر پر عمل کرنے کے لیے واپس آجائیں گے۔ ہم یہ کام حماس کو ختم کرنے کے لیے کریں گے اور جتنی جلدی اور جتنی تعداد میں ممکن ہو یرغمالیوں کی واپسی کے لیے زبردست دباؤ ڈالیں گے، آخری یرغمالی کی واپسی تک۔''

حماس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ قطر اور مصر کی ثالثی کے ذریعے غزہ کی پٹی میں چار دن کے لیے جنگ میں انسانی بنیادوں پر تؤقف کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں دونوں اطراف سے تمام دشمنیوں کا خاتمہ، غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں تمام اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنا، انسانی اور طبی امداد لے جانے والے سینکڑوں ٹرکوں کا بغیر کسی استثناء کے غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں تک پہنچنا شامل ہے اور یہ کہ حماس غزہ کی پٹی سے 50 یرغمالیوں کو رہا کرے گی اور اس کے بدلے میں 150 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں