فلسطین اسرائیل تنازع

امید ہے لبنان اسرائیل سرحد پرامن بحال ہو جائے گا:وزیرِاعظم میقاتی کی ایردوان سےملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے کہا انہیں امید ہے کہ دوست ممالک کی مداخلت سے لبنان کی جنوبی سرحد پر امن بحال ہو جائے گا اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے دوران اپنے جارحانہ اقدامات بند کرے۔

میقاتی نے استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بند ملاقات کے بعد کہا۔ "ہم موجودہ بحران میں پیش رفت کو یقینی بنانے اور [اسرائیل کے ساتھ] جنوبی سرحد پر امن کی بحالی کی غرض سے کام کرنے کے لیے دوست ممالک کی کوششوں پر اعتماد کر رہے ہیں۔"

ترک میڈیا نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر صرف اتنا کہا کہ ملاقات ہوئی اور یہ بند تھی۔ اردگان نے بارہا اسرائیل کو "دہشت گرد ریاست" قرار دیا اور غزہ کو غیر آباد کرنے کے لیے اس کی "مسلسل قبضے، زمین چھین لینے، اور مظلوموں کے قتلِ عام" کی پالیسی کی مذمت کی۔

لبنانی وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا کہ اردگان نے غزہ میں پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے کام کرنے اور فوجی آپریشن ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پائیدار امن کے حصول کے لیے کام کرنے کی تیاری کی جائے۔

اردگان نے مزید کہا: "غزہ جنگ سے سب سے زیادہ متأثر ہونے والا ملک لبنان ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جنگ بندی جاری رہے گی تاکہ لبنان محفوظ اور پرسکون رہے۔"

فلسطینی مزاحتمی گروپ حماس کی دیرینہ اتحادی لبنانی ایران نواز ملیشیا حزب اللہ نے 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے خلاف اپنی بیان بازی میں اضافہ کیا ہے۔

حزب اللہ نے اسرائیلی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے باقاعدہ حملے شروع کر رکھے ہیں اور اسرائیل اور حماس جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج جوابی فائرنگ کر رہی ہے جس سے اسرائیل کی سرحد کے شمال میں اور لبنان کے جنوب میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں