سعودی عرب کے ایک دور افتادہ گاؤں کا ’راکان الشمری‘ جرمن کمپنی کا اہم عہدیدار کیسے بنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ویسےتو دنیا بھرمیں مختلف شعبوں میں مہارتیں حاصل کرنے اور اہم ذمہ داریوں تک پہنچنے کے لیےہرشخص کو متاثر کرنے والے الگ الگ ذرائع ہوتے ہیں مگر سعودی عرب کے ’راکان الشمری‘ کی ترقی اور معراج میں اس کا دور فتادہ گاؤں ’الہبکہ‘ کا اہم کردار ہے۔

سعودی عرب کے شمال میں دور افتادہ علاقے ’الھبکہ‘ میں جب راکان الشمری نے آنکھ کھولی تو اسے دور دور تک جدید انسانی ترقی کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ ان کے گاؤں میں کسی گھر میں ٹیلی وژن تک نہیں تھا اور اس نے کچے گھروں اور سادہ دیہاتی ماحول میں زندگی کے ابتدائی ایام گذارے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں تخلیق کاروں اور موجدین کی زندگیوں میں تحریک کے محرکات مختلف ہوتے ہیں لیکن سعودی نوجوان "راکان الشمری" کے لیے اسکا گاؤں ہی ایک محرک ثابت ہوا۔

راکان الشمری نے اپنے گاؤں کی سادگی ہی سے روشنی اور جذبہ لیا اور آج وہ جرمنی کی ایک ریلوے فرم میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔

نوجوان انجینیرنے اپنی کہانی کے پرت کھولتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوئی سمجھوتا نہیں کہا۔ اگرچہ وہ پائلٹ بننا چاہتا تھا مگر حالات نے اس کی اجازت نہیں دی جس کے بعد اس نے انجینیرنگ کا انتخاب کیا۔ وہ انجینیرنگ کی تعلیم کے لیے جرمنی گیا اوروہیں اس نے اپنے عملی کیریئر کا بھی آغاز کردیا۔

نوجوان انجینیر رکان الشمری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اپنے سفر کی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے الیکٹریکل انجینیرنگ میں کمیونیکیشن کے شعبے میں مہارت حاصل کی اور پھر توانائی کے شعبے میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جذبے اور خواہش نے اسے کام کرنے پر مجبور کیا۔ ماسٹرز کی تعلیم کے دوران اس نے انجینیرنگ کے شعبے میں ملازمت بھی حاصل کی۔

آج راکان جرمن ریل پاور کمپنی میں ٹرین بجلی کے منصوبوں کے ڈائریکٹر ہیں مگران کی شخصیت میں ان کی زندگی کے ابتدائی عرصے کے آثار موود ہین اور وہ آج بھی خود کو ’بن البدیہ ‘ یعنی دیہات کا فرزند کہتے ہیں۔

انجینیر رکان الشمری کا کہنا ہے کہ ان کا آبائی گاؤں ہی ان کے لیے ’سورس آف انسائریشن‘ ہے۔

"ھبکہ" گاؤں سے جرمنی تک

انجینیر راکان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گاؤں جس میں وہ رہتے تھے اور جرمنی کے درمیان دو مختلف تہذیبوں کو ملانے اور ملاپ کرنے میں کامیاب رہے۔ جرمنی ان کے کام کی جگہ بن گیا مگر وہ یہ نہیں بھولتے کہ وہ ایک زمانے میں کچی جھونپڑیوں میں رہتے اور صحرا میں پھرتے۔ وہ اپنی سادگی کی پیکر ماں کے ساتھ گھر کے کام کاج کرتے، کوئیں سے پانی اٹھا کر لاتے۔ بارہ سال تک اپنے گاؤں کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ مگراس اعلیٰ مقام تک پہنچنے میں راکان کی محنت کےساتھ اس کے خاندان کی طرف سے ہرممکن تعاون بھی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں