ہمیں فلسطینی گروپ نہیں عوام کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے: منصور عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی کنیسٹ کے رکن اور یونائیٹڈ عرب لسٹ کے سربراہ منصور عباس نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اچانک اسرائیل پر حملہ کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا۔ ہمیں مسلح گروپ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے کی ہماری مذمت اسلامی تحریک پر ہمارے یقین کی بنا پر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیل کے اندر اسلامی تحریک باقی تحریکوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم شہریوں پر کسی بھی حملے کو حرام سمجھتے ہیں۔ اسرائیل اور حماس ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی میں انسانیت سے دور ہیں۔

اسرائیلی کنیسٹ کے رکن نے فلسطینی اور اسرائیل کی سیاسی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل کے اندر عرب یہودی تعلقات خطرے میں ہیں۔ مسئلہ فلسطین مردہ نہیں ہوا۔ اس کے حوالے سے صحیح راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے اسرائیل کے اندر فلسطینی کمیونٹی سیاسی کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کو ایک ریاست کے طور پر کام کرنے دیں، دھڑے بندی کی صورت حال سے دور رہیں۔ محمود عباس کی صدارت میں فلسطینی اتھارٹی کو متحد ہو جانا چاہیے ۔ بطور مسلمان ہمیں شہریوں کو جنگ کی لعنت سے بچانا چاہیے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد نیتن یاہو کی حکومت باقی نہیں رہے گی۔

منصور عباس نے یہ بھی کہا کہ ایک جنگ بندی کافی نہیں ہے اور اس کے حل کے لیے ایک سیاسی اقدام شروع کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل کے اندر اس بات پر اتفاق ہے کہ حماس کو ختم کرنے کے لیے جنگ جاری رکھنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں موجودہ بحران کو حل کرنے کے لیے مختلف انداز میں سوچنا ہو گا۔ شمالی غزہ میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں 15000 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی موت ہوچکی ہے۔ کیا ہم جنوبی غزہ میں ایک اور اسرائیلی آپریشن کی قیمت چکانے جا رہے ہیں۔

یاد رہے 48 روز لڑائی کے بعد چار روز کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے۔ 49 ویں اور 50 ویں روز جنگ بندی رہی۔ جنگ بندی کے پہلے دن حماس نے 13 اسرائیلی رہا کئے اور بدلے میں اسرائیل نے 39 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کردیا۔ دوسرے روز حماس نے کہا اسرائیل نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ فائرنگ کی گئی اور امدادی ٹرکوں کو غزہ داخل ہونے سے روکا گیا۔ اس بنا پر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی موخر کی جارہی ہے۔ اس کے بعد قطر اور مصر نے حماس اور اسرائیل سے رابطے کئے اور رات گئے معاہدے پر عمل درآمد دوبارہ شروع کیا گیا۔ حماس نے 13 اسرائیلیوں اور 4 غیر ملکیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا۔ 13 یرغمالیوں کو اسرائیل پہنچا دیا گیا۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے 12 بجے کے قریب اسرائیل نے عوفر جیل سے فلسطینی قیدی رہا کردئیے۔ فلسطینی قیدیوں کی بس مغربی کنارے کے علاقے بیتونیا پہنچ گئی جہاں فلسطینی قیدیوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں