ہم اسرائیل کو غزہ سے لاپتہ ہونے والوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں: فلسطینی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنگ بندی کے دوسرے دن بھی اسرائیلی قیدیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی جارہی ہے۔ عارضی جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے دوسرے دن قیدیوں کے امور کی اتھارٹی نے اسرائیلی حکام کو "لاپتہ قیدیوں" کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

اتھارٹی کے سربراہ قدورہ فارس نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم اسرائیل کو غزہ سے حراست میں لیے گئے افراد کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ غزہ سے گرفتار کئے گئے فلسطینیوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگی حالات کے تناظر میں قیدیوں کی رہائی کے لیے جشن کو مختصر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فورسز نے 7 اکتوبر کو غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے 3,200 نئے فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔

قدورہ فارس نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری معاہدے کے پہلے بیچ کے اندر قیدیوں کو رہا کرنے میں اسرائیل نے سنیارٹی کی پاسداری نہیں کی۔ اس لمحے تک ہم نہیں جانتے کہ قیدیوں کا نیا گروپ کہاں سے نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی گروپوں میں قیدیوں کی فہرستوں میں چھیڑ چھاڑ پر شدید عدم اطمینان موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے قیدیوں کو آج اریحا میں حوالے کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن ہم نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اس لمحے تک ہمیں نہیں معلوم کہ قیدیوں کی دوسری کھیپ کو کہاں رہا کیا جائے گا۔

اسرائیلی جیلوں کی اتھارٹی نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے دوسرے دن اسرائیل 42 فلسطینیوں کو رہا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یاد رہے 48 روز لڑائی کے بعد چار روز کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے۔ 49 ویں اور 50 ویں روز جنگ بندی رہی۔ جنگ بندی کے پہلے دن حماس نے 13 اسرائیلی رہا کئے اور بدلے میں اسرائیل نے 39 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کردیا۔ دوسرے روز حماس نے کہا اسرائیل نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ فائرنگ کی گئی اور امدادی ٹرکوں کو غزہ داخل ہونے سے روکا گیا۔ اس بنا پر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی موخر کی جارہی ہے۔ اس کے بعد قطر اور مصر نے حماس اور اسرائیل سے رابطے کئے اور رات گئے معاہدے پر عمل درآمد دوبارہ شروع کیا گیا۔ حماس نے 13 اسرائیلیوں اور 4 غیر ملکیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا۔ 13 یرغمالیوں کو اسرائیل پہنچا دیا گیا۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے 12 بجے کے قریب اسرائیل نے عوفر جیل سے فلسطینی قیدی رہا کردئیے۔ فلسطینی قیدیوں کی بس مغربی کنارے کے علاقے بیتونیا پہنچ گئی جہاں فلسطینی قیدیوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں