فلسطین اسرائیل تنازع

"تین کے لیے ایک"غزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے اسرائیل کی اور کیا شرائط ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں چار روزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے شرائط اور طریقہ کار کا اعلان کیا ہے۔ جنگ بندی میں عارضی توسیع میں اسرائیل نے ایک کے بدلے تین کی شرط عاید کی ہے۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی نے یہ معلومات اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی کے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہ ایک بیان سے لیا ہے۔

قطر، مصر اورامریکی کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے میں جمعے سے شروع ہونے والی اس قابل تجدید جنگ بندی کے چار دنوں کے دوران 150 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے حماس کے زیر حراست 50 یرغمالیوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے۔

جنگ بندی کے نفاذ سے قبل اسرائیلی وزارت انصاف کی طرف سے شائع کردہ ایک فہرست میں اسرائیلی جیلوں میں قید 300 فلسطینیوں کے نام شامل تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ 150 فلسطینیوں سے تجاوز کر سکتا ہے۔

اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کی ویب سائٹ پر آج اتوار کو شائع ہونے والی رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے حماس کے زیر حراست افراد کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ رہائی کے بعد بھی قیدیوں کی تعداد دوسو سے زیادہ ہے۔

اخبار نے کہا کہ حال ہی میں تھائی لینڈ کے رہا ہونے والے شہری ان مغویوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔

اخبار نے اشارہ کیا کہ اس کی ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ مغوی کارکنوں میں سے کچھ کے پاس قانونی رہائش نہیں ہے اور اسرائیل کو ان کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

توقع ہے کہ جمعہ اورہفتہ کو دو کھیپوں کی رہائی کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے تیسرے دن اتوار کو مزید اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

اسی دوران انسانی امداد کے ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہو رہے ہیں۔7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر شروع کیے گئے حملے کے جواب میں سات ہفتوں کی شدید اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور اموات ہوئی ہیں۔

جمعے اور ہفتہ کو مجموعی طور پرحماس نے 26 اسرائیلی قیدیوں کو، جن میں سے کچھ دوہری شہریت کے حامل ہیں کو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے حوالے کیا، جب کہ اسرائیل نے 78 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔ رہا ہونے والے تمام افراد خواتین اور بچے ہیں۔

دو دنوں کے دوران حماس نے 15 غیر اسرائیلی غیر ملکیوں کو بھی رہا کیا جو کہ معاہدے میں شامل نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں